المحراب — Page 121
خوشا نصیب کہ ہم میزبان تھے ان کے لجنہ اماء اللہ کراچی بڑی خوش نصیب ہے کہ اُسے خدا تعالی کے فضل عزباء سے حسن سلوک سے پیش آئیں۔احسان سے حضرت خلیفہ ابن الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العربیہ کے منصب خلافت GRASS Poors میں اتریں حکمت اور سنجیدگی سے کام کریں پر متمکن ہونے کے بعد سفر لندن تیک متعدد بار حضور کی روح پر در مجالس عرفان عمال فیلڈ میں مت کرو جو تجربات ہوں ان سے آگاہی حاصل کیں وہ طبقہ جو تمدنی حساب سے اور خواتین سے اجتماعی ملاقات سے متمتع ہونے کی توفیق ملی۔ایمان افروز سہانی یادوں احمدیت سے کٹ رہا ہے، اس میں بھی کام آگے بڑھائیں ان کا حلقہ احباب کے نتیجہ آباد رکھنے کے لئے ان زندگی بخش صحبتوں کا ذکر کرتے ہیں۔حضور پر نور نے ۲۹ جولائی سالہ بیت الذکر مارٹن روڈ میں خواتین سے خطاب فرمایا۔بہیت کے آخری سرے نیک بچیاں اور خواتین بیٹھی ایک اور پانچ سو سے زیادہ کی نسیدت بنتی ہے اس لحاظ سے آپ کی تعداد تھیں۔ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اس دن کراچی شہر میں کوئی احمدی عورت حاضر ہونے بہت کم ہے۔وسیع ہوتا ہے انہیں بھی آہستہ آہستہ مکام میں آگے لائیں۔کراچی کی احمدی خواتین کراچی کی کل خوانین تک پیغام پہنچانا چاہیں تو سے پیچھے نہیں رہی ہوگی۔حضور کی خدمت اقدس میں کراچی کے شعبہ اصلاح الرشاد کا تیار کردہ حضور ایدہ الو دو ر نے روح میں اتر جانے والی آواز میں تلاوت ایک تعلیمی منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔جیسے حضور نے پسند فرمایا منظوری دی اور سورہ فاتحہ کے بعد خطاب فرمایا جس کا تور میں ڈھلا ایک ایک لفظ قلوب تدریس کے لئے ایک مربی صاحب کے تعین کا فیصلہ فرمایا اور تلقین فرمائی کہ میں اتر گیا۔نخطاب کے بعد خواتین کی طرف سے تجدید بیعت کی درخواست کی قرآن پاک ناظرہ اور با ترجمه تلفظ کی درستی کے ساتھ ضرور پڑھایا جائے۔آپ گئی۔حضور نے اس استدعا کو قبول فرمایا اور بیعت لی جس میں آپ نے خدا تعالیٰ نے ایک لائیر یہ ہی کے قیام کی اجازت بھی مرحمت فرمائی اور دیر تک سیرۃ النبی کے حضورہ عاجترانہ طریق پر آنسوؤں کے ساتھ بیعت کے الفاظ دہرائے حاضرات کے جلسوں کے اثرات کے متعلق گفتگو فرماتے رہے۔قیام کراچی کے دوران حضور بھی آب دیدہ ہو رہی تھیں۔ممبرات کی کثیر تعداد نے براہ راست خلیفہ وقت ایده الورد ودر شام کو مجالس عرفان میں رونق افروز ہوتے تو آئین کے لئے پر دے کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی سعادت پہلی دفعہ حاصل کی تھی۔بھیگی آنکھوں کے ساتھ کا انتظام ہوتا۔اس طرح وہ عینی حضور کے گھر معارف جوابات سے ملقبض ہوتیں۔خدا تعالیٰ کے حضورہ کہ حاکم نے کا منظر اور نطف ہمیشہ یاد رہے گا۔کیف و سرور عمر تین کے شوق نہ یارت و ملاقات کے لئے یہ انتظام کیا گیا کہ نماز عشاء کی ادائیچی کے یہ لمحات قدرت ثانیہ کی برکات کا اعجاز تھے ان فیوض و برکات کو بہتی دنیا تک کے بعد خواتین گیسٹ ہاؤس کے سبزہ زار تنظیم سے بیٹھ جائیں میں قیادت کی قائم رکھنے کے لئے دعائیں کی گئیں۔انتظام کر نے کی ڈیوٹی ہوتی اُسے اگلی صفوں پہ بٹھا دیا جاتا اور محترمہ صدر صاحبہ یا موجود اس کے بعد حضورہ کے دیدار کی سعادت فروری سادیہ میں حاصل عہدے دار حضور سے ان کا تعارف کرواتیں حضورہ بڑی بشاشت سے خواتین سے ہوئی جب ۱۲ فروری کو کراچی تشریف لانے کے بعد سر فروری تذہ کو لجند گون بھیجو فرماتے اور ان کے سوالات کے جوابات مرحمت فرمانے نماز عشاء کے بعد کی ملاقاتیں کراچی کی مجلس عاملہ کے عہد یداران کے ساتھ گیارہ بجے شب تک رونق افروز ہلکے پھلکے نوشگوار طریق پر ہوتیں ماضی میں خواتین سے ملاقات کا دستور یہ ہوا کہ نا تھا کہ مر ہے اور اپنے عقدہ کشاندیر سے ہمارے مسائل کے حل کے لئے یہ نمائی فرماتے باری باری ایک ایک خاندان کمرہ ملاقات میں جا کہ چند منٹ حضور کی قدمت ہیں رہے آپ نے ارشاد فرمایا اپنے ماحول کے تعلق سے اپنے ملنے والوں خصوصاً حاضر ہو سکتا تھا اس طرح حضو ایده الودود کا کثیر وقت صرف ہو جاتا حضورہ نے اپنا یہ وقت ۱۲۹