المحراب

by Other Authors

Page 108 of 167

المحراب — Page 108

علاوہ کوئی احمدیت سے متعارف نہ تھا اس لیئے ہم نے راتوں کو ٹھ اٹھ کر نوافل اور دعاؤں سے اپنے جاء نماز تر کر دیے اور مسلسل احمدیہ محترمہ سید خضر سلطانه هلوی کی کتابیں دور دو تین، تین لالٹین جلا کر پڑھا کرتے یہاں تک کہ ہم نے حق کو پالیا اور دسمبر 1ء میں باقاعدہ بیعت کر لی۔آپ اپنے ریدہ کے ریلوے اسٹیشن سے جنوب کی طرف دار الرحمت وسطی حال میں بے حد قانع اور مطمئن تھیں اور خدا کے سوا کسی پر انحصار کی جانب دیکھیں تو ایک چھوٹی سی زرد رنگ کی پر وقاری بیت الذکر کی تامل نہ تھیں۔تبلیغ کا بے حد شوق تھا۔اللہ تعالی نے اولاد جیبی ہے۔جس پر بیت الذ کو خضر سلطانہ بہت نمایاں طور پر لکھا ہوا نظر آتا نعمت سے محروم رکھا۔مگر کبھی شکوہ زبان پر نہ لائیں۔نہایت دعا گو ہے۔یہ خضر سلطانہ کون تھیں جنہیں اتنے اہم مقام پر خدا کا گھر عمیر کرنے تھیں میری درخواست پر میرے لئے اولاد نرینہ کے لئے دعا کی اور کی سعادت نصیب ہوئی۔ان سے مکمل تعارف محترمہ ظفر جہاں بیگم بھٹی خواب کی بناء پر دو بیٹوں کی خوشخبری دی۔خدا تعالے نے مجھے جڑواں بیٹوں سے نوازا۔کہ واتی ہیں۔1903ء میں آپ کے بھائیوں نے کاروبار میں لگانے کے عاجزہ نومبر میں کراچی آئی اور تھیو سیفیہ کل ہال بند روڈ لئے آپ کا زیر گروی رکھ کر روپیہ حاصل کیا۔انہوں نے زیور کے قریب ہی ایک فلیٹ میں رہائش پذ یہ ہوئی۔دو تین روز کے تو دے دیا مگر ہمہ وقت یہ احساس رہتا کہ زیور کسی دینی مصرف میں بعد خضر سلطانہ (مرحومہ) جو چوتھی منزل پر مقیم تھیں ملنے آئیں اور اپنا خرچ ہو تا 14 ء میں بہت منت سماجت سے زیور واپس ملا تو تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ محمد یونس صاحب مرحوم کی اہلیہ ہیں جو بہت دعا کہ نہیں کہ اس کا بہترین مصرف نکل آئے۔خدا تعالے نے اُن محترم بایو نذیر احمد صاحب مرحوم امیر جماعت احمدیہ دہلی کے برادر نسبتی کی رہنمائی کی اور خیال آیا کہ دار الرحمت وسطی ربوہ میں حضرت مصلح موعود تھے جو ۱۹۴۷نہ کے فسادات میں غالباً شہید ہو گئے تھے۔(غالباً یوں کہ کے عطا کردہ پلاٹ پر جو مکان بنوایا ہے اُس کے ایک حصہ میں خدا کا کسی کام سے باہر گئے تھے اور پھر واپس نہ آئے باوجود تلاش کے کچھ گھر بنوادوں اور مکان کے کرایہ سے بہت اللہ ہی کا خرچ نکالتا رہے۔پتہ نہ لگ سکا تو قیاس کر لیاگیا کہ ہنگامے میں کام آگئے۔وہ خود چندماہ وفات سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے اپنا مکان وقف کرنے اور پیشتر اپنی والدہ اور بھائیوں کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں۔انہوں نے اس کے ایک حصہ میں بیرت الذکر بنوانے کی خواہش ظاہر کی۔صدر انجین مجھے بتایا کہ وہ اپنے خاندان کی اکیلی احمدی ہیں جب کہ ان کی والدہ احمدیہ نے اسے منظور کر لیا۔پہلے ایک کچھا کمرہ بنا یا گیا ، جب اسے بچنہ اور بھائی صددرجہ مخالف ہیں۔شوہر بھی احمدی تھے۔مگر ان کی وفات کرنے کا موقع آیا تو مرحومہ کی خواہش کا علم ہونے پر حضرت سیدہ کے بعد وہ تنہا رہ گئی ہیں۔فطری طور پر مجھ سے مل کر انہیں بہت امر متین صاحہ صدر الحنه مرکز یہ نے 1999ء میں حضرت حلیفہ اسیح الثالث تقویت ہوئی۔کہیں نے محسوس کیا کہ وہ مزا جا بہت سادہ اور علیم ہیں۔کے ارشاد پر اس کی بنیاد رکھی۔یہ چھوٹی سی سادہ مگر یہ وقار بیت الذکر انہوں نے میرے بچوں کو قرآن شریف پڑھانے کی پیشکش کی مجھ میں ریلوے اسٹیشن کے بالکل قریب ہر آنے جانے والے کو یہ یاد دلاتی ہے نے قومہ ا قبول کر لی۔اور پھر جتنا عرصہ میں وہاں رہی وہ یہ خدمت کہ ایک فنانی اللہ خاتون اپنے زیورات کا استعمال اس طرح بھی کر سکتی۔بخوشی انجام دیتی رہیں۔4 ماہ بعد میں نے سرہائش گاہ تبدیل کر لی مگر ہے کہ زمین پر خدا کا گھر تعمیر کر وا کے تواب دارین حاصل کرے۔ہماری محنتیں اور اپنائیت قائم کر ہی اور وہ با وجود کمزوری صحت بھنہ کراچی کو آپ کی خدمات بلیے معرصہ تک حاصل رہیں۔حلقہ کے مجھ سے ملنے ہر تیسرے چوتھے ماہ پابندی سے آتی رہیں۔اپنی اور سعید منزل جس میں اُس وقت رامسوامی کا علاقہ بھی شامل تھا) کی منتخب اپنے میاں کی قبولیت احمدیت کا واقعہ سناتے ہوئے بہت جذباتی صدر تھیں۔وفات تک جماعتی کاموں کی انجام دہی احسن طریق پر کورتی یہ ہیں۔ہو جاتیں۔انہوں نے مجھے بتایا کہ ہمارے گھر میں چونکہ ہم دونوں کے ۲۲ جولائی کو وفات پائی مرحومہ کے بھائیوں نے کراچی 114