المحراب

by Other Authors

Page 107 of 167

المحراب — Page 107

کو بھی باعراہ سے جاتیں۔پوری زندگی میں شاید ہی کسی اجلاس کا نا فذ کیا ہوگا۔پھوڑ نہیں۔ان تعمیرات کے لئے جو ہمیشہ عذر تلاش کرتیں اور گھر کی کیونکہ اجلاسوں میں شامل ہونے کو وہ ہمیشہ احمدی عورت کا دینی و اخلاقی معدنیات کو اجلا سات ہمیں نہ آنے کا بہانہ بناتی ہیں خصوصا مجھی تھی فریضہ بجھتی نہیں۔بعض حلقہ کی ان ممبرات میں سے تھیں جن کی وجہ سے صاحبہ کی شخصیت مشعل راہ ہے۔جب میں سوسائٹی سے لیاقت آباد حلقہ میں زندگی ہوتی ہے۔خدا تعالے اپنی مغفرت کی چادریں ڈھانپ ہے۔آئی تو پھر ان سے بہت قربت رہی اب وہ ذرا فراغت میں تھیں بڑی بیٹی کی شادی کر دی تھی۔بڑے بیٹے نے پھولوں کا کام شروع کر دیا تھا۔اور دو کرے بھی بیچے بن گئے تھے وہ آہستہ آہستہ گھر بھی بناتی جا رہی تھیں۔چھوٹے بیٹے کو تعلیم بھی دلا رہی تھیں۔(بعد میں وہ ماڈرت موٹرز میں ملازم ہو گیا ، بڑی بیٹی کے یہاں بچی کی ولادت ہوئی تو وہ به بیگم ہاتھی اداء محترم حبیب بیگی باشی بند اما د الر کا ریکی پیلی با داده اس سیکریٹری تھیں۔محترمہ بیگیم شریف وڑائچ کراتی ہیں جو ان کی دیرینہ فیق کار زچگی میں ہی فوت ہو گئی جس کا انہیں بڑا دھکا لگا۔مگر باوجود رہی ہیں۔ان سے تعارف کرواتی ہیں۔اتنے بڑے صدمہ کے، تین چار دن ہی رخصت کی اور بغیر کام پر محترم حبیبہ بیگم ہاشمی اپریل دو میں لجنہ کے دفائنہ کی پہلی حاضر ہو گئیں۔کام پوری دلجھی اور لگن سے کر ہمیں ، احمد میت کی خاطر آفس سیکریٹری مقرر ہوئیں اور تاحیات ایک حباب نار اور مخلص خادمہ جان دینے کو بھی کم سمجھتیں۔بہت خود دار اور محتاط کارکن تھیں اگر کبھی دین کی حیثیت سے بلعہ کراچی کی خدمت کرتی رہیں۔اس قدر محنتی اور کوئی کڑا وقت آجاتا اور بطور قرض کچھ لیتیں تو بہت جلد تنخواہ سے انتھک کام کرنے والی میرات انگلیوں پر گنتی جاسکتی ہیں اور مجھے کٹوا کر رقم واپس کر نہیں اور کبھی کسی کی مدد کی طلبگار نہ ہوتیں۔بچے بڑے فخر ہے کہ بھتہ کے کاموں میں ان کے ساتھ عرصہ دررا نہ تنگ رفاقت حاصل ہو گئے اور زندگی میں ذرا سہولت ہوئی تو کام کا دورانیہ مزید بڑھ گیا۔رہی اور ان جیبی سرگرم اور بے لوث خادمہ دین سے میں نے اور چھوٹے بیٹے کی شادی بڑے ارمان سے کی اس سے پیار بھی بہت تھا بھتہ کی دوسری کارکنان نے بہت کچھ سیکھا خصوصا دین کو دنیا پر مقدم مگر وہ بہت جلد بیوی کو لے کر الگ ہو گیا اور بعد میں پنجاب جا بسا۔رکھنے کا جذبہ گھر میں دینی کاموں کے لئے باہر نکلنے کے باوجود ایک اس کا بھی سخت صدر تھا مگر منہ سے کبھی نہ کہتیں اس کے جانے کے توازن اور سلیقہ قائم کر کھند اور غربت میں بھی بے حد وقار اور خود داری بعد اکثر بیمار رہنے لگیں۔ہماری بڑھی تو لوگوں نے منت سماجت کر کے کی آن بان قائم رکھنا وغیرہ وغیرہ بیٹے کو واپس بلایا۔میں دانا وہ واپس آیا اس کے اگلے روز ان کی وفات میں جب پہلے پہل کراچی آئی تو سب سے پہلا تعارف انہی ہو گئی۔شائد اسی میں دم انکا تھا۔سے ہوا۔تین ہٹی میل کے پاس پہاڑی کے قریب چٹائیوں سے گھیرا سوا وصیت کی ادائیگی وہ زندگی میں کر چکی تھیں اس لئے بہشتی نفر تین کمروں کا ایک کچا مکان حسین کا صرف ایک کمرہ پکا تھا۔نہایت میں تدفین عمل میں آئی۔مختصر ضروریات زندگی۔دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔خاوند سے بھتہ کراچی کو فخر ہے کہ اُسے جیبہ ہاشمی صیبی ہے دوست اور مخلص ان کے تعلقات صحیح نہ تھے اس لئے گھر کی اقتصادی ذمہ داری بھی ادر میسر آئی اور بعد کراچی کو اس مقام تک پہنچانے میں جو کہ دار انہوں اپنی کو پوری کرنی پڑتی تھی۔سلائی کڑھائی کے کاموں سے جو آمدنی اصل نے ادا کیا ہے وہ اسے کبھی فراموش نہ کر سکے گی۔خدا تعالے سے دعا ہے کہ اپنی خاص نعمتوں سے حصہ عطا ہوتی اسی میں گزر بسر کرتی تھیں۔اس زمانے میں مجتہ کا دفتر روزانہ کھاتا تھا۔چھوٹے چھوٹے 4 بچوں کا ساتھ۔تنہا۔گھر کی تمام ذمہ داریاں۔فرمائے آمین۔صفائی پکا نا ریندھنا۔گھر کے دوسرے کام۔پھر سلائی کو تاہ اور روزانہ لجنہ آفس جا کہ اپنے دینی فرائض ادا کرتا۔احمدیہ ہال سے اگر کپڑے میتیں اور اس عالم میں بھی کہ تھکان سے برا حال ہوتا اجلاس کبھی نہ