المحراب — Page 109
میں دفن کرنے پر اصرار کیا مگرہ محترمہ مولوی عبد المجید صاحب محترم مولانا عبیدالک حضرت صاحب زادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے پڑھائی۔خدا تعالٰی اپنی مغفرت کی چادر میں ڈھانپ کر جنت میں جگہ دے۔(آمین) خان صاحب نے بڑی حکمت سے معاملات کو سلجھایا اور تکفین و تدفین کا کام سر انجام دیا۔مرحومہ موجود تھیں ربوہ کی سرزمین پر آخری آرام گاہ نصیب محترمہ غلام فاطمہ صاحبہ ہوئی۔خدا تعالیٰ آپ کو مغفرت کی چادر میں ڈھانپ لے اور بیت الذکر خضر سلطانہ کی صورت میں چھوڑا ہوا اور شہ درجات کی بلندی کرتا ہے آئیں۔اجیہ ڈاکٹر عبدالرحمن کا مٹی صاحب انتقائے حضرت مسیح موعود حضرت مریم بی بی صاحبہ اور حضرت حافظ فیض الدین صاحب کی دختر تھیں۔سر سیالکوٹ کی مشہور کبوتروں والی بہیت کے مالک تھے اپنی ساری جائیدا و جماعت کیلئے وقف کرنے کی سعادت حاصل کی گھر کے محترمہ ڈاکٹر زبیدہ طاہر صاحبہ اکثر افراد مرد و زن حفاظ قرآن پاک تھے۔یہ خود بھی خوش الحانی اور صحت تلفظ اہلیہ طاہر ہاشمی صاحب محترمہ بی بی جان صاحبہ اور محترم سید میر مہدی حسن کے ہاں ۱۹۳۶ میں کے ساتھ کثرت سے قرآن پاک کی بلند آواز سے تلاوت کرتیں۔کراچی لجند کو ۱۹۴۷ سے ۱۹۷۱ تک ان کی خدمات حاصل رہیں۔حلقہ جیکب لائنز کی صدور ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو اس طرح نبھایا کہ ان سے بالا عہدیدار ان کی رفقائے کار اور ان کی تربیت یافتہ آنے والی نسل انہیں عزت واحترام ہے یاد کرتی ہے۔غریب پروری اس خاندان کا طرہ امتیاز رہا۔آپ بھی بڑی خاموشی سے خدمت خلق کی عادی تھیں۔خاندان حضرت مسیح موعود سے گہری محبت و عقیدت تھی اور یہ ناعت پسند پیدا ہوئیں۔دہلی میں احمد یہ فرنیچر ز کے نام سے برکت والا کاروبار تھا۔۱۹۴۴ء وصف دریہ میں چھوڑا ہے اپنے بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھتیں اور ایمان میں جلسہ حضرت مصلح مسعود کے مہمان ان کے کارخانے میں ٹھہرے تھے۔افروز واقعات سناتی رہتیں۔بیگم خان عبد القیوم انتظام مہاجرین کی زبیدہ صاحبہ نے ان مہمانوں کو پانی پلانے کی ڈیوٹی کے ساتھ بچپن ہی سے خدمت آباد کاری کی عاملہ کی ممبر تھیں۔حضرت خلیفہ ہال انی نے ان کی خدمات کو سلسلہ کا آغاز کیا۔۱۹۵۷ء میں فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے تیسری پوزیشن لے میرا ہا تھا۔احمد لت نے حد و مجید غیر۔کر ایم بی بی ایس کیا اور وہیں سے پوسٹ گر یجویشن کی ۱۹۵۹ء میں شادی ہوئی۔تھیں۔۱/۳ کی موصیہ تھیں۔خدا۔اوم دین اولاد سے نوازا۔ان کی بڑی بیٹی زندگی کی جدوجہد میں عزم و ہمت کا ثبوت النور سوسائٹی میں اسپتال کا قیام و محترمہ ڈاکٹر امتہ اللطیف اریتیم بچوں کی کفالت کی۔محترمہ ڈاکٹر انصرام ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اس اسپتال کو فو را سپتال کا نام دیا۔ڈاکٹر صاحبہ کی خدمت خلق کا فیض ان گنت نادار مریضوں کو پہنچا۔اور اب کو کہ میں بعدہ کی عہدیدار ہیں۔خدا تعالیٰ ان کی اولاد کو اپنی امان میں رکھے اور بزرگوں کی قربانیوں کا سلسلہ آگے بڑھانے کی توفیق دے۔(آمین) مفت مشور ہے اور دوائیں دینا سعادت سمجھتی تھیں۔۱۹۷۷ء سے اپنی بیٹیوں تمرینہ اور مسلمی کے ساتھ جلسہ ہائے سالانہ پر طبی امداد کا کیمپ سنبھالنا شروع ر محترمہ تیا ر شید صاحب پہلے حیدر آباد کر دیا۔۸۲ ۱۹۸۱ میں احمدیہ ویمن ایسوسی الما قائم ہوئی۔آپ اس کی صدر احمدی خواتین کے لئے پیغام تھیں ۱۹۷۶ ۱۹۷۸ تک حلقہ النور کی نائب صدر اور پھر صد ر فتخب ہو ئیں۔اس کے ساتھ آپ نائب نگراں لجنہ قیادت نمبر ۳ بھی رہیں۔۱۹۸۲ء میں حضرت بانی سلسلہ کے مبعوث ہونے کی غرض اللہ تعالی نے آپ کمیٹی ضلع کراچی کی نگران کا عہدہ دیا گیا۔آپ نہ صرف خودا یک کے الہام میں یہ بتائی ہے۔اچھی منتظم تھیں بلکہ اپنے ساتھ فعال کارکنوں کی ٹیم تیار کرلی اور ہر جلسہ ان یحی الدین و بقسم الشریعه کے زیر انتظام ہوئی لگا۔۱۹۸۳ ء میں جلسہ سالانہ ربوہ پر طبی امداد کی ڈیوٹی کے ساتھ کہ آپ دین کا احیاء کریں گے اور شریعت کو قائم کریں گے۔ہم حلقہ خاص کی انتظامی ڈیوٹی حسن و خوبی سے ادا کی ۱۹۸۳ میں سارے جلسہ گاہ کی ڈیوٹی ان کے سپرد کی گئی۔باوجودا ایک ڈاکٹر کی شدید مصروفیات کے آپ نے دیکھتے ہیں کہ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت اماں جان سختی سے پردہ کی پابند بڑی تندہی سے جلسہ گاہ کا نقشہ بنایا۔جگ ، گلاس رسی پولی تھین کے تھیلے تھیں۔گو وہ گھر سے باہر بھی تشریف لے جاتی تھیں اور بعض افراد کو ساتھ لے کر گئیں۔اس حسن انتظام کی داد حضرت خلیفہ المسیح الرابع بلا کر کام کے لئے بھی کہتی تھیں سو آپ کی تقلید میں احمد ہی خواتین اور حضرت چھوٹی آیا صاحبہ نے بھی دی ۱۹۸۷ء سے صحت خراب ، سنے تھی۔بھی پردے کی پوری پابندی کریں۔عدم پابندی کے شدید نقصانات کے بارے میں حضرت مرزا طاہر احمد امام جماعت احمدیہ نے جماعت کو متنبہ فرما دیا ہے۔پیغام حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب آپریشن کے بعد کمزوری کے باوجو د ۱۹۸۸ کے جلسہ سالانہ لندن میں ڈیوٹی دی۔کھڑی نہیں ہو سکتی تھیں، کرسی پر بیٹھ کر سب کام کروائے کہ فروری 1960 کی صبح کراچی لجنہ کی یہ منفر و خصوصیات کی حامل خاتون اپال نوار ان اور سب نمبرات لجنہ کو حزیں بنا کر خالق حقیقی سے جاملیں بنا نمازہ جنازہ بحوالہ انصار اللہ نومبر دسمبر ۶۸۵ 116