اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 69 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 69

44 خدا تعالی کو انسان کی طرح بیٹھا ہوا تصور کیا جائے یہ لے آپ عرش کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔ور مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ عرش کوئی جسمانی اور مفلوق چیز ہے میں پر خدا بیٹھا ہوا ہے تمام قرآن شریف کو اول سے آخر تک پڑھو اس میں ہرگز نہیں پاؤ گے کہ عرش بھی کوئی چیز محدود اور مخلوق ہے۔خدا نے بار بار قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ ہر ایک چیز جو کوئی وجود رکھتی ہے اس کا میں ہی پیدا کر نے والا ہوں۔میں ہی زمین و آسمان اور روحوں اور ان کی تمام قوتوں کا خالق ہوں۔میں اپنی ذات میں آپ قائم ہوں اور ہر ایک چیز میرے ساتھ قائم ہے۔ہر ایک ذرہ اور ہر ایک چیز جو موجود ہے وہ میری ہی پیدائش ہے مگر کہیں نہیں فرمایا کہ عرش بھی کوئی جسمانی چیز ہے جس کا میں پیدا کر نیوالا ہوں قرآن شریف میں لفظ عرش کا جہاں جہاں ستعمال ہوا ہے۔اس سے مراد خدا کی عظمت اور جبروت اور بلندی ہے اسی وجہ سے اس کو مخلوق چیزوں میں داخل نہیں کیا ہے نیز فرماتے ہیں :۔عرش سے مراد قرآن شریف میں وہ مقام ہے جو تشبیہی مرتبہ سے بالا تر اور ہر ایک عالم سے بر تر اور نہاں در یہاں اور تقدس اور تنزہ کا مقام ہے۔وہ کوئی ایسی جگہ نہیں کہ پھر یا اینٹ یا کسی :- چشمه معرفت من در هانی خزائن جلد ۲۲ منشان که نسیم دعوت فشت ہو