اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 70
،، اور چیز سے بنائی گئی ہو اور خُدا اس پر بیٹھا ہوا ہے۔اس لئے عرش کو غیر مخلوق کہتے ہیں اور خدا تعالٰی جیسا کہ یہ فرماتا ہے کہ کبھی وہ مومن کے دل پر اپنی تجلی کرتا ہے۔ایسا ہی وہ فرماتا ہے کہ عرش پر اُس کی تجلی ہوتی ہے اور صاف طور پر فرماتا ہے کہ ہر ایک چیز کوئیں نے اُٹھایا ہوا ہے۔یہ کہیں نہیں کہا کہ کسی چیز نے مجھے بھی اٹھایا ہوا ہے اور عرش جو ہر ایک عالم سے برتر مقام ہے۔وہ اُس کی تنزیہی صفت کا مظہر ہے اور ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ ازل سے اور قدیم سے خدا میں دو صفتیں ہیں۔ایک تشبیہی۔دوسری صفت تنزیہی اور چونکہ خدا ے کلام میں دونوں صفات کا بیان کرنا ضروری تھا یعنی ایک تشبیبی صفت اور دوسری تنزیہی صفت۔اس لئے خدا نے تنبیہی صفات کے اظہار کے لئے اپنے ہا تھے ، انکھ، محبت، غضب وغیرہ صفات قرآن شریف میں بیان فرمائے۔اور پھر جبکہ احتمال تشبیہہ کا پیدا ہوا تو بعض جگہ ليْسَ كَمِثْلِہ کہہ دیا اور بعض جگہ شم استَوى عَلَى الْمَعَرش کہہ دیا له چشمه معرفت ۲۷۵۰۲۶۴