اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 68 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 68

۶۸ کچھ نظر نہیں آتا۔پھر اسی کہا کہ اللہ تعالٰی قرآن شریف میں یہ بھی فرماتا ہے کہ بس انسان سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔یہ کہہ کر یہی کا غزہ اس کی آنکھوں کے بالکل قریب رکھ دیا اور کہا بتاؤ اب تمہیں کیا نظر آتا ہے ؟۔اس نے کہا اب تو کچھ نہیں نظر آتا۔اس پر احمدی دوست کے کہا کہ جب خدا اسے بھی زیادہ شہ رگ کے قریب ہے تو وہ تمہیں ان آنکھوں سے کس طرح نظر آ جائے ؟ ! عرش کی اصطلاح اور اس کا مطلب جیسا کہ حضرت اقدر نے لکھا ہے کہ : - " قرآن شریف میں ایک طرف تو یہ بیان کیا ہے کہ خُدا کا اپنی مخلوق سے شدید تعلق ہے اور ہر ایک جان کی جان ہے اور ہر ایک بستی اسی کے سہارے سے ہے پھر دوسری طرف اس غلطی سے محفوظ رکھنے کے لئے کہ تا اسکی تعلق سے جو انسان کے ساتھ ہے، کوئی شخص انسان کو اس کا مین ہی نہ سمجھ بیٹھے جیسا کہ دیدانت والے سمجھتے ہیں۔یہ بھی فرما دیا کہ وہ سب سے برتر اور تمام مخلوقات سے وراء الوراء مقام یہ ہے جس کو شریعت کی اصطلاح میں عرش کہتے ہیں۔اور عرش کوئی مخلوق چیز نہیں ہے۔صرف درا و الوراء مرتبہ کا نام ہے نہ یہ کہ کوئی ایسا تخت ہے جس پر ٢١٠١ : "بستی باری تعالیٰ " ص ۲۱ :