الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 38

ضمیمه حقيقة الوحي ۳۸ الاستفتاء و من عاداہ نزل لحربه و نصر اور جس نے اس سے دشمنی کی اللہ اس سے جنگ کرنے عبدہ کما ینصر المخلصون؟ کے لئے میدان میں اتر آیا۔اور اس نے اپنے بندے أيها الفتيان۔۔أفتوني في هذا کی ایسے مدد کی جیسے مخلصوں کی مدد کی جاتی ہے۔اے وأروني مفتريا أنعم الله عليه عزیزو! اس کے بارہ میں مجھے فتوئی دو اور مجھے کوئی ایسا كمثل هذا العبد وتفضّل عليه مفترى دکھاؤ جس پر اللہ نے اس بندہ کی طرح انعام کیا (١٦) كمثله، واتقوا الله الذى إليه ہو۔اور جس پر اس بندہ کی مانند احسان کیا ہو۔اور اللہ کا تقوی اختیار کرو جس کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ترجعون۔الله ثم أستفتى منكم أيها العلماء پھر اے عالمو! اور فاضلو! میں تم سے پھر فتویٰ والفضلاء، فلا تقولوا إِلَّا حقًّا، واتقوا طلب کرتا ہوں۔پس تم سچ ہی کہو اور اللہ سے ڈرو الذي بيده الجزاء۔وتعلمون کہ جس کے ہاتھ میں جزا سزا ہے۔اور تم جانتے ہو أن الصالحين لا يكذبون، ولا يكون نیک لوگ جھوٹ نہیں بولا کرتے اور حق پوشی من عادتهم الإخفاء ، ولا يُخفي حقا ان کی عادت نہیں ہوتی۔حق بات کو وہی شخص إلا الذى حتم عليه الشقاء۔چھپاتا ہے جس کے لئے بدبختی مقدر ہو چکی ہو۔أيها الفتيان وفقهاء الزمان اے عزیز و ! اے زمانے کے فقیہو ! اور اے علماء وعلماء الدهر وفضلاء وقت ! اور اے دیار و امصار کے فضلاء ! مجھے فتویٰ دو ایسے شخص کے متعلق جس نے اللہ کی طرف سے آنے البلدان! أفتوني في رجل قال إنه مـن الـلـه، وظهرت له حماية الله کا دعویٰ کیا اور اس کے لئے اللہ کی حمایت دو پہر کے سورج کی طرح ظاہر ہوئی۔اور اس کی سچائی کے كشمس الضحى، وتجلت أنوار انوار تاریکی کے چودھویں کے چاند کی طرح جلوہ گر صدقه کبدر الدجى، وأری ہوئے ہیں۔اور اللہ نے اس کی خاطر روشن نشان الله له آیات باهرات، وقام دکھائے اور ہر اس معاملہ میں جس کا اس بندہ نے لنصرته في كلّ أمرٍ قضی، فیصلہ کیا وہ (اللہ ) اس کی نصرت کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔