الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 37

ضمیمه حقيقة الوحي ۳۷ الاستفتاء أيهلك الــلــه بــحيـلهـم کیا اللہ ان کے منصوبوں اور ان کی دعاؤں سے ودعواتهم رجلًا يعلم أنه صادق؟ اس شخص کو ہلاک کر یگا جسے وہ سچا جانتا ہے۔اصل بل هم قوم عمون۔فما تقولون فى بات یہ ہے کہ وہ اندھی قوم ہیں۔اے منصفو! تم اس بندہ اور اس کے دشمنوں کے بارہ میں کیا کہتے ہو؟ کیا هذا الـعبـد وفـي أعـدائـــه أيّهـا تم نے اللہ پر کسی ایسے افتراء کرنے والے کو دیکھا ہے المنصفون؟ أرأيتم مفتريا على کہ جب اس نے کسی مومن سے مباہلہ کیا تو اللہ نے الله إذا باهل مؤمنًا نصره الله مومن کے مقابلے پر اس کی مدد فرمائی ہو ؟ اور جس على المؤمن، ومزّق من خالفه نے اس کی مخالفت کی اور اس سے مباہلہ کیا اسے وباهله؟ بینوا توجروا أيها ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہو؟ اے عقلمندو! صاف صاف العاقلون۔أرأيتم عبدًا افترى على بتاؤ تم اجر دئے جاؤ گے۔کیا تم نے کسی ایسے بندے کو الله، ثم كان الله له، وكلّما أُعد دیکھا ہے جس نے اللہ پر افتراء کیا پھر اللہ اس کا له بلاء فرج الله عنه، وكلما ہو گیا۔اور جب بھی اس کے لئے کوئی مصیبت کھڑی نسج له کید مزق الله ذالک کی گئی تو اللہ نے اُس کو اُس سے دور کر دیا۔اور جب کبھی بھی اس کے لئے سازش تیار کی گئی تو اللہ نے الكيد وفتح عليه أبواب الفضل اس کے لئے فضل، رحمت اور رزق کے دروازے وأبواب الرحمة وأبواب الرزق، کھول دیئے اور اس پر اس طرح سے انعام کئے وأنعم عليه كما يُنعم المرسلون؟ جیسے رسولوں پر کئے جاتے ہیں۔اور اس پر ہر خیر و وفتح عـلـيـه أبـواب كـل خيــر برکت کے دروازے کھول دیئے۔اور دشمنوں سے اس وبركة، كة، وحفظ عـزتـه ونفسه کی عزت اور جان کی حفاظت کی۔اور اس نے اپنے اور من الأعداء ، وبرأه بآياته نشانات اور فعلی شہادت سے اسے ان کے الزامات سے وشهاداتـه مـمـا يقولون۔وحفظ پاک ٹھہرایا۔اور اس نے اسے دشمن (کے شر ) سے من العــدا، وسطا بكلّ من سطا، محفوظ رکھا اور ہر حملہ کرنے والے پر اس نے حملہ کیا۔