الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 39

ضمیمه حقيقة الوحي ۳۹ الاستفتاء واستجاب دعواته في الأحباب اور اللہ نے دوستوں اور دشمنوں کے بارہ میں اس وفي العدا۔ولا يقول هذا العبد كى دعائیں قبول فرمائیں۔اور یہ بندہ نبی کریم کی إلَّا ما قال النبي صلى الله عليه ☆ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کے سوا کچھ نہیں کہتا۔اور ہدایت کے راستے سے ایک قدم بھی باہر وسلم، ولا يُخرج قدمًا من نہیں نکالتا اور وہ کہتا ہے کہ اللہ نے اپنی وحی میں الهدى۔ويقولُ إن الله سمّانى نبيًّا میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی طرح اس سے پہلے بوحيه، وکذالک سُمِّيت من قبلُ ہمارے رسول ( محمد ) مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی على لسان رسولنا المصطفى زبان مبارک ) سے مجھے یہ نام عطا کیا گیا ہمیں الحاشية۔وإن قال قائل : كيف يكون اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ اس امت میں سے کوئی نبی کیسے ہو نبى من هذه الأمة وقد ختم الله على النبوة؟ سکتا ہے جبکہ اللہ نے نبوت پر مہر لگادی ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ اللہ عز فالجواب۔إنه عزّ وجلّ ما سمّى هذا الرجل وجل نے اس شخص کا نام نبی صرف اور صرف اس لئے رکھا تا کہ وہ نبيا إلا لإثبات كمال نبوّة سيدنا خير البرية، ہمارے سید و مولی خیر الوریٰ علیہ کی نبوت کے کمال کو ثابت کرے فإن ثبوت كمال النبي لا يتحقق إلا بثبوت کیونکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا کمال امت کے کمال کے ثبوت كمال الأمة، ومن دون ذالک ادعاء محض کے بغیر تحقیق نہیں ہوتا۔اس کے بغیر یہ محض دعوئی ہے جس پر اہل عقل لا دليل عليه عند أهل الفطنة۔ولا معنى لختم کے نزدیک کوئی دلیل نہیں۔کسی فرد پر نبوت کے ختم ہونے کے اس کے سوا کوئی معنی نہیں کہ اس فرد پر نبوت کے کمالات اپنی انتہا کو پہنچیں على ذالك الفرد، ومن الكمالات العظمى اور نبی کا فیض رسانی کا کمال نبوت کے عظیم کمالات میں سے ہے۔النبوة على فرد من غير أن تُختتم كمالات النبوة كمال النبي في الإفاضة، وهو لا يثبت من غير نموذج يوجد في الأمة۔ثم مع ذالك اور یہ کمال امت میں موجود نمونے کے بغیر ثابت نہیں ہوسکتا۔اور ذكرت غير مرة أن الله ما أراد من نبوّتى إِلَّا كثرة اس کے ساتھ ساتھ میں نے بار بار ذکر کیا ہے کہ میری نبوت سے المكالمة والمخاطبة، وهو مُسَلَّم عند أكابر اللہ کی مراد صرف کثرت مکالمہ ومخاطبہ ہے (اس کے سوا کچھ نہیں ) أهل السنة۔فالنزاع ليس إلا نزاعًا لفظیا اور یہ اہل سنت کے اکابرین کے ہاں مسلم ہے۔پس یہ نزاع محض لفظی نزاع ہے۔لہذا اے اہل عقل و دانش ! جلد بازی سے کام نہ لو۔فلا تستعجلوا يا أهل العقل والفطنة۔ولعنة الله على من ادعى خلاف ذالك مثقال ذرة، اور اللہ کی لعنت ہو اس پر جو ذرہ بھر اس کے خلاف دعوی کرے اور ومعها لعنة الناس والملائكة۔منه اس کے ساتھ تمام لوگوں اور فرشتوں کی لعنت بھی ہو۔منہ