الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 78 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 78

ZA الحُجَّةُ البَالِغَةُ آتا ہے وہاں طبعاً ان لوگوں نے کچھ حاشیے چڑھائے اور مسلمان آہستہ آہستہ خاموش طریق پر ان کے خیالات سے متاثر ہوتے گئے عجب تک صحابہ کا ایک کثیر حصہ زندہ رہا اس وقت تک تو ایسا اثر قطعا ممکن نہ تھا لیکن صحابہ کے زمانے کے بعد خود نسلی مسلمان بھی ایک حد تک ان نو مسلموں کے اثر کے نیچے آگئے اور اس طرح آہستہ آہستہ بعض غلط عقائد مسلمانوں کے اندر رائج ہو گئے۔بھلا آپ غور فرمائیں کہ قرآن شریف میں مسیح ناصری کے متعلق آتا ہے کہ اس نے مردے زندہ کئے اس کے صاف یہ معنی تھے کہ وہ لوگ جو روحانی طور پر مردہ تھے ان کے اندر اس نے زندگی کی روح پھونکی جس طرح کہ تمام نبیوں کا کام ہے۔خود محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ الفاظ آتے ہیں کہ اے لوگو جب تم کو خدا کا رسول زندہ کرنے کے لئے بلائے تو اس کی بات پر لبیک کہا کرو۔مگر باوجود اس کے مسیح کے لئے جب زندہ کرنے کے الفاظ آئے تو وہاں ان لوگوں نے حقیقی مردوں کو زندہ کرنا سمجھ لیا۔اسی طرح قرآن میں جہاں کہیں مسیح علیہ السلام کے متعلق خلق کا لفظ آگیا تو اس کو نعوذ باللہ حقیقی طور پر خالق ہی مان لیا گیا حالانکہ ایسے الفاظ بطور استعارہ کے ہوتے ہیں۔یہی حال اس مسئلہ میں ہوا۔عیسائی مذہب میں پہلے سے ہی مسیح علیہ السلام کی دوبارہ آمد کی خبر موجود تھی جسے تمام عیسائی لوگ خود مسیح کا دوبارہ آنا سمجھتے تھے جب یہ لوگ جوق در جوق مسلمان ہو کر اسلام کے اندر آئے تو انہوں نے اسلام میں بھی مسیح کی آمد کی خبر پائی جس سے فوراً انہوں نے یہ خیال کرلیا کہ یہ وہی خبر ہے جو عیسائیت میں بھی موجود ہے کہ مسیح علیہ السلام دوبارہ آئے گا۔خیر آگے عربی محاورہ کے مطابق لفظ نزول کا بھی مل گیا۔بس پھر کیا تھا اس خیال پر پختہ طور پر جم گئے کہ اسرائیلی مسیح بذات خود آخری ایام میں نازل ہوں گے۔مسیح کی لے یہی وجہ ہے کہ ہمارے گزشتہ مفترین قرآن شریف کی تفسیر کرتے ہوئے خواہ مخواہ اسرائیلی کہانیاں بیان کرنے لگ جاتے ہیں۔