الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 79 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 79

۷۹ الحُجَّةُ البَالِغَةُ محبت نے اس بات کی اجازت ہی نہیں دی کہ قرآن کھول کر غور کریں کہ یہ عقیدہ قرآن کے مطابق بھی ہے یا نہیں۔بعد میں جو لوگ آئے ان کو اتنی جرات کہاں کہ اسلاف کے خلاف کوئی کلمہ منہ پر لائیں اندھا دھند اس عقیدہ کی تلقین کرتے آئے۔صرف کوئی کوئی ایسے بہادر نکلے جنہوں نے اس باطل عقیدہ کے خلاف جرات کر کے قرآن اور احادیث صحیحہ پر نظر غائر ڈالی تو دیکھا کہ معاملہ تو کچھ اور ہے۔عوام الناس کی مخالفت کی تاب ہوئی تو بر ملا کہا کہ عیسی فوت ہو گئے ہیں ورنہ سینے میں ہی اپنی تحقیقات کو دبائے ہوئے اس جہان سے سُدھار گئے۔بڑی مشکل یہ ہے کہ باپ دادا کے عقیدوں کو چھوڑ نا عوام کے لئے نہایت مشکل ہوتا ہے۔قرآن کھول کر دیکھو شروع سے ہی عوام کی یہ آواز رہی ہے کہ :- بَلْ نَتَّبِعُ مَا الْفَيْنَا عَلَيْهِ ابَاتَنَا یعنی ہم تو اسی بات پر ہی قائم رہیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا مگر خدا نے بھی خوب جواب دیا کہ اَوَلَوْ كَانَ أَبَائُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ ہمارا بھی یہی جواب ہے۔مگر نہ سننے والوں نے خدا کی نہیں سنی تو ہم کس حساب میں ہیں ! عیسی ابن مریم کا نام استعمال کرنے میں حکمت یہ مضمون نامکمل رہے گا اگر میں آخر میں وہ وجہ نہ بتاؤں جس کی بناء پر نبی کریم نے آنے والے کو مسیح ابن مریم کے نام سے یاد کیا۔اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ آئندہ مبعوث ہونے والے مامورین کے نام جو کسی نبی کے ذریعے بتائے جاتے ہیں وہ عام طور پر کسی باطنی حقیقت کی طرف اشارہ کرنے والے ہوتے ہیں