الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 77 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 77

الحُجَّةُ البَالِغَةُ سب اپنے عقائد میں درست ہوں۔اگر درست ہیں تو اختلاف کیسا۔یہ اختلاف ظاہر کرتا ہے کہ بعض غلط عقائد مسلمانوں کے اندر آگئے ہیں۔اب ناظرین بتا ئیں کہ وہ غلط عقائد کہاں سے آگئے؟ قرآن شریف اور حدیث نے تو یقینا صحیح عقائد ہی بیان کئے ہوں گے پھر ان کے ہوتے ہوئے غلط عقائد کیسے داخل ہو گئے ؟ جو جواب آپ دیں گے وہی ہماری طرف سے سمجھ لیجئے۔مگر میں صرف الزامی جواب دے کر آپ کو خاموش نہیں کرنا چاہتا بلکہ میرا منشا تو یہ ہے کہ کسی طرح آپ کی تسلی ہو اس لئے سنئے ! حیات مسیح کا عقیدہ کس طرح مسلمانوں کے اندر داخل ہو گیا ؟ ناظرین کو معلوم ہوگا کہ جب اسلام کی فتوحات کا زمانہ تھا اس وقت عیسائی لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے اور یہ ایک فطری امر ہے کہ انسان اپنے پرانے خیالات کو آہستہ آہستہ چھوڑتا ہے۔ہمارے ملک میں ایک مثل مشہور ہے کہ رام کا نام نکلتے نکلتے ہی نکلے گا اور اللہ کا نام داخل ہوتے ہوتے ہی ہوگا۔اسی پر قیاس کرلو کہ یہ لوگ جو ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں جوق در جوق اسلام میں داخل ہوتے تھے وہ گو اسلام کی صداقت کو مان کر ہی مسلمان ہوتے تھے لیکن طبعاً خیالات میں یکلخت پورا انقلاب نہ ہونے کی وجہ سے وہ تفصیلی امور میں بعض عیسائی خیالات اپنے ساتھ لاتے تھے جن کا ایک دن میں دل سے نکل جانا ممکن نہ ہوتا تھا۔ان لوگوں کے دلوں سے مسیح ناصری کی بے جا محبت شرک کے مقام سے تو بے شک نیچے گر گئی تھی لیکن ابھی کلی طور پر دل سے نہیں نکلی تھی۔اس لئے قرآن شریف اور احادیث میں جہاں کہیں مسیح“ کا ذکر