الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 24
۲۴ الحُجَّةُ البَالِغَةُ اس آیت میں جو آوٹی یعنی پناہ کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ صاف طور پر اس طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ صلیب والے واقعہ کے بعد کا موقع ہے جب مسیح علیہ السلام یہود کے شر سے بال بال بچا۔دیکھئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ کیسے صاف الفاظ میں فرماتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کو ایک بلند جگہ کی طرف پناہ دی گئی جو چشموں والی تھی۔اب ہم دیکھتے ہیں تو کشمیر کا خطہ اس بیان کے ٹھیک مطابق اُترتا ہے۔اسی لئے جب حضرت مرزا صاحب کو اس معاملے کی طرف توجہ ہوئی تو ایک عرصہ کی تحقیقات کے بعد یہ صاف پتہ پتہ چل گیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب سے بچ کر افغانستان وکشمیر کی طرف ہجرت کر کے آگئے تھے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کی بعثت بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لئے تھی جیسا کہ خود مسیح علیہ السلام کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔اب تاریخ ہم کو بتاتی ہے کہ بنی اسرائیل کی بعض قو میں مسیح علیہ السلام سے پہلے افغانستان وکشمیر کے علاقوں میں آکر آباد ہوگئی تھیں۔دیکھ لیجئے کشمیر کا لفظ ہی اس طرف اشارہ کر رہا ہے۔یہ مرکب ہے کاف اور شمیر سے جو اصل میں اشیر تھا اور بگڑ کر شیر اور پھر ثقل تلفظ کی وجہ سے شمیر بن گیا۔تو گویا کشمیر کے معنی ہوئے کاشیر یعنی اشیر کی طرح کا ملک۔اور دنیا جانتی ہے کہ اشیر عبرانی زبان میں اسیر یا یعنی شام کے ملک کو کہتے ہیں۔یہ نام کشمیر کا بنی اسرائیل ہی نے آکر رکھا تھا کیونکہ قاعدہ ہے کہ اپنے اصلی وطن کے نام پر لوگ اپنے نئے وطنوں کے نام رکھ لیا کرتے ہیں۔اتنی تحقیقات کے بعد حضرت مرزا صاحب نے کشمیر کی تاریخ تلاش کی تو پرانے واقعات میں مل گیا