الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 25
۲۵ الحُجَّةُ البَالِغَةُ کہ قریباً انیس سو سال ہوئے کہ کسی باہر کے ملک سے یہاں ایک شہزادہ نبی آیا تھا جس کا نام یوز آسف تھا جو صاف طور پر یسوع سے بگڑا ہوا معلوم ہوتا ہے۔آخر کار مسیح علیہ السلام کی قبر بھی محلہ خانیارسری نگر میں مل گئی۔اس قبر کے متعلق بھی موقع کی شہادت اور تاریخ سے پتہ لیا گیا تو یہی معلوم ہوا کہ یہ اسی یوز آسف کی قبر ہے جو انہیں سوسال ہوئے کشمیر میں آیا تھا۔مزید ثبوت یہ ملا کہ وہ قبر اور اس کے ساتھ والی مسیح علیہ السلام کی ماں کی قبر ٹھیک اسی طرز پر بنی ہوئی ہیں جس طرح بنی اسرائیل کی قبریں ہوتی تھیں۔علاوہ اس کے مسیح علیہ السلام کی ہجرت کا ایک ثبوت یہ ہے کہ لفظ مسیح کے معنی سفر کرنے والے کے ہیں اور ظاہر ہے کہ مسیح علیہ السلام کے سوا اور کسی نبی نے اتنے لمبے سفر نہیں کئے۔پھر ایک حدیث میں بھی آتا ہے کہ :- أَوْحَى اللهُ تَعَالَى إِلى عِيسَى أَنْ يَا عِيسَى انْتَقِلُ مِنْ مَكَانٍ إِلَى مَكَانٍ لِئَلَّا تُعْرَفَ فَتُؤذى ( کنزل العمال جلد دوم صفحه ۳۳۴) یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو وحی کی کہ اے عیسی تو ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف نکل جاتا ایسا نہ ہو کہ تو پہچانا جاوے اور تجھے تکلیف میں ڈالا جاوے۔“ یہ حدیث صراحت کے ساتھ صلیب کے بعد والے حالات کی طرف اشارہ کرتی ہے کیونکہ اسی وقت یہ ڈر پیدا ہوا تھا کہ اگر یہود مسیح علیہ السلام کو دوبارہ دیکھ لیں گے تو پھر دوبارہ شرارت کریں گے۔یہ ہوا لکھا گیا ہے۔اصل میں ان کے ساتھ والی قبر ایک اور بزرگ کی ہے۔ناشر