الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 23 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 23

۲۳ الحُجَّةُ البَالِغَةُ ہو گیا اور یہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ یہود کو مسیح علیہ السلام کے معاملے میں دھوکا لگا رہا۔لوگوں نے سمجھا کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر مر گیا ہے حالانکہ وہ صرف غشی کی حالت میں تھا جو بعد میں جاتی رہی اور علاج کے ساتھ مسیح علیہ السلام اچھا ہو گیا۔اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو یہود کے شر سے بچانے کی یہ تدبیر فرمائی کہ ان کی نظروں میں مسیح علیہ السلام مشابه بالمصلوب کر دیا گیا۔لیکن خدا فرماتا ہے کہ اگر وہ غور کرتے اور اس معاملے میں صرف ظن کی پیروی نہ کرتے اور پوری تحقیقات سے کام لیتے تو ان کو پتہ لگ جاتا کہ وہ مسیح کو صلیب پر مار ڈالنے پر قادر نہیں ہو سکے بلکہ كَفَّ اللهُ عَنْهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ اب یہ تو فیصلہ ہوا کہ مسیح صلیب پر لٹکایا تو گیا مگر وہ صلیب پر مرا نہیں بلکہ خدا نے اسے یہود کے فاسد ارادوں سے محفوظ رکھا۔لیکن اس جگہ طبیعت میں یہ خیال ضرور اٹھتا ہے کہ مسیح علیہ السلام اس کے بعد گیا کہاں؟ شاید ناظرین کا خیال ہو کہ اس مسئلہ میں قرآن شریف خاموش ہوگا مگر نہیں جب وہ کسی مسئلے کو لیتا ہے تو پھر اس کے ہر پہلو پر روشنی ڈالتا ہے چنانچہ اس مسئلہ پر بھی وہ خاموش نہیں ہے۔ملاحظہ ہو۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے:۔وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّةٌ آيَةً وَأَوَيْنَهُمَا إِلَى رَبِّوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ ومَعِين (المؤمنون:۵۱) یعنی ہم نے مسیح علیہ السلام اور اس کی ماں کو ایک نشان بنایا اور ان دونوں کو ہم نے ایک ایسی جگہ کی طرف پناہ دی جو بلند تھی اور جس میں چشمے 66 جاری تھے۔“