القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 72

۷۲ تَدَارَكَهُمْ لُطْفُ الْإِلَهِ تَفَضُّلًا وَزَكَّى بِرُوحٍ مِنْهُ فَضْلًا وَّ أَيَّدَا خدا کی مہر بانی نے از راہ احسان انہیں آ لیا اور اپنے فضل سے اپنی روح القدس کے ذریعہ انہیں پاک اور موید کیا۔فَفَاقُوْا بِفَضْلِ اللَّهِ خَلْقَ زَمَانِهِمْ بِعِلْمٍ وَّ إِيْمَانٍ وَّ نُورٍ وَّ بِالْهُدَى پس وہ اللہ کے فضل سے اپنے زمانے کی مخلوق پر علم و ایمان اور نو ر وہدایت میں سبقت لے گئے۔وَهَذَا مِنَ النُّورِ الَّذِي هُوَ أَحْمَدُ فدًی لَّكَ رُوحِي يَا مُحَمَّدُ سَرْمَدَا یہ سب کچھ اس کے نور کی برکت سے تھا جو کہ احد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔میری روح اے محمد! آپ پر ہمیشہ قربان ہے۔اُمِرْتَ مِنَ اللَّهِ الَّذِي كَانَ مُرْشِدًا فَاَحْرَقْتَ بِدْعَاتٍ وَّ قَوَّمُتَ مَرْصَدَا تو اس اللہ کی طرف سے مامور کیا گیا جور شد عطا کرنے والا ہے۔سوتو نے بدعتوں کو مٹاڈالا اور راستہ کوسیدھا کر دیا۔وَجِئْتَ لِتَنْجِيَةِ الْأَنَامِ مِنَ الْهَوَى فَوَاهَا لِمُنْجِي خَلَّصَ الْخَلْقَ مِنْ رَدَى اور تو مخلوق کو خواہشات نفس سے نجات دینے کے لئے آیا۔سو آفرین ہے ایسے نجات دہندہ پر جس نے خلقت کو ہلاکت سے بچالیا۔وَ تَوَرَّمَتْ قَدَمَاكَ لِلَّهِ قَائِمًا وَمِثْلُكَ رَجُلًا مَا سَمِعْنَا تَعَبُّدَا خدا کے حضور قیام میں تیرے قدم متورم ہو گئے اور عبادت کرنے میں تیرے جیسا آدمی ہمارے سننے میں نہیں آیا۔جَذَبْتَ إِلَى الدِّينِ الْقَوِيْمِ بِقُوَّةٍ وَمَا ضَاعَتِ الدُّنْيَا إِذَا الدِّينُ شُيّدا تو نے سچے دین کی طرف ( لوگوں کو) قوت کے ساتھ کھینچ لیا اور ان کی ) دنیا بھی ضائع نہ ہوئی جب کہ ( ان کا ) دین مضبوط کیا گیا۔وَ اَرْسَلَكَ الْبَارِى بِايَاتِ فَضْلِهِ لِكَيْ تُنْقِذَ الْإِسْلَامَ مِنْ فِتَنِ الْعِدَا اور خدا نے تجھے اپنے فضل کے نشانوں کے ساتھ بھیجاتاکہ تو اسلام کو دشمنوں کے فتنوں سے چھڑالے۔يُحِبُّ جَنَانِى كُلَّ اَرْضِ وَطِئْتَهَا فَيَالَيْتَ لِي كَانَتْ بِلَادُكَ مَوْلِدَا میرا دل ہر اس زمین سے محبت رکھتا ہے جس پر تو چلا۔پس کاش تیرا ملک میری جائے پیدائش ہوتا۔وَ أَكْفَرَنِي قَوْمِي فَجِئْتُكَ لَاهِفًا وَكَيْفَ يُكَفَّرُ مَنْ يُوَالِى مُحَمَّدًا اور میری قوم نے میری تکفیر کی تو میں تیرے پاس مظلوم ہو کر آیا۔اور کیسے کا فرقرار پا سکتا ہے وہ شخص جو مد ( ﷺ ) سے محبت رکھے۔