القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 73

۷۳ عَجِبْتُ لِشَيْخِ فِي الْبَطَالَةِ مُفْسِدٍ أَضَلَّ كَثِيرًا بِالشُّرُوْرِ وَ بَعْدَا مجھ کو بٹالہ کے مفسد شیخ پر تعجب ہے۔بہتوں کو اس نے شرارتوں سے گمراہ اور ( حق سے ) دور کر دیا ہے۔سَلُوهُ يَمِينًا هَلْ أَتَانِي مُبَاهِلًا وَقَدْ وَعَدَ جَزْمًا ثُمَّ نَكَتْ تَعَمُّدَا اسے قسم دے کر پوچھو کیا وہ میرے پاس مباہلہ کے لئے آیا؟ حالانکہ اس نے پکا وعدہ کیا تھا پھر اس نے عمداً اسے توڑ ڈالا۔فَخُذْ يَا الهى مِثْلَ هَذَا الْمُكَذِبِ كَاخُذِكَ مَنْ عَادَى وَلِيًّا وَّ شَدَّدَا اے میرے خدا! اس جیسے مکذب کو گرفت میں لے۔جیسے تو گرفت میں لیتا ہے اس شخص کو جس نے ولی سے دشمنی کی اور اس پر ختی کی۔أَضَلَّ كَثِيرًا مِنْ صِرَاطٍ مُنَوَّرٍ تَبَاعَدَ مِنْ حَقِّ صَرِيحٍ وَ أَبْعَدَا بہت سے لوگوں کو اس نے منور راستہ سے گمراہ کر دیا۔وہ حق صریح سے دور ر ہا اور ( لوگوں کو بھی ) دور کیا۔قَدِ اخْتَارَ مِنْ جَهْلٍ رِضَاءَ خَلَائِقِ وَكَانَ رِضَى الْبَارِئُ أَهَمَّ وَ أَوْ كَدَا اس نے نادانی سے مخلوق کی خوشنودی کو ترجیح دی حالانکہ اللہ کی رضا اہم اور زیادہ ضروری تھی۔وَمَا كَانَ لِى بُغْضٌ وَ رَبِّي شَاهِدٌ وَفِي اللهِ عَادَيْنَاهُ إِذْ حَالَ مَرْصَدَا مجھے اس سے کوئی ذاتی دشمن نہ تھی اور میر اب گواہ ہے۔اور ہم اللہ کی خاطر ہی اس کے دشمن ہوئے جب کہ وہ (ہمارے ) راستے میں روک بن گیا۔يَسُبُّ وَمَا أَدْرِى عَلَى مَا يَسُبُّنِي أَيُلْعَنُ مَنْ أَحْيى صَلَاحًا وَّ جَدَّدَا وہ گالیاں دیتا ہے اور میں نہیں جانتا کہ کس بات پر مجھے گالیاں دیتا ہے۔کیا ایسا آدمی بھی لعنت کیا جاسکتا ہے جس نے نیکی کو زندہ کیا اور دین کی تجد یدکی؟ نَعَمْ نَشْهَدَنُ أَنَّ ابْنَ مَرْيَمَ مَيِّتُ أَهذَا مَقَالٌ يَجْعَلُ الْبَرَّ مُلْحِدًا ہاں! ہم ضرور گواہی دیتے ہیں کہ ابنِ مریم مر چکا ہے۔تو کیا یہ کوئی ایسی بات ہے جو ایک نیک کوملحد بنادے؟ وَهَلْ مِنْ دَلَائِلَ عِنْدَكُمْ تُؤْثِرُوْنَهَا فَإِنْ كَانَ فَا تُونِي بِتِلْكَ تَجَلُّدَا کیا تمہارے پاس (حیات مسی پر کوئی ایسے دلائل ہیں جنہیں تم اختیار کرہے ہو؟اگر کوئی ایسی دلیل ہے تو اسے دلیری سے میرے سامنے لاؤ۔أَنَحْنُ نُخَالِفُ سُبُلَ دِيْنِ نَبِيِّنَا وَقَدْ ضَلَّ سَعْيًا مَنْ قَلَى دِيْنَ أَحْمَدَا کیا ہم اپنے نبی کے دین کی راہوں کے مخالف ہیں؟ حالانکہ وہ اپنی کوشش میں بھٹک گیا جس نے دینِ احمد سے دشمنی کی۔