القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 356 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 356

۳۵۶ أَرَى النَّفْسَ لَا تَدْرِى لُغُوبًا بِسُبُلِهِ وَمَا إِنْ أَرَهَا عِنْدَ خَوْفٍ تَأَخَّرُ میں اپنے نفس کو دیکھتا ہوں کہ اس کی راہوں میں رکتا نہیں اور میں نہیں دیکھتا کہ وہ خوف کے وقت پیچھے ہے۔وَإِنِّى نَسِيتُ الْهَمَّ وَالْغَمَّ وَالْبَلَا إِذَا جَاءَ نِي نَصْرٌ وَّ وَحْيٌ يُبَشِّرُ اور میں نے ھم اور غم اور بلا کو بھلا دیا جب اس کی مدد اور وحی بشارت دینے والی میرے پاس آئی۔وَإِنَّا بِفَضْلِ الله نَطْوِى شِعَابَنَا عَلَى هَاجِرَاتٍ مِثْلَ رِيحَ تَصَرُصِرُ اور ہم خدا کے فضل سے اپنی راہ طے کر رہے ہیں ایسی اونٹینوں پر جو تیز ہوا کی طرح چلتی ہیں۔لَهُنَّ قَوَائِمُ كَالْجِبَالِ كَأَنَّهَا سَفَائِنُ فِي بَحْرِ الْمَعَارِفِ تَمْخُرُ ان اونٹنیوں کے پیر پہاڑوں کی طرح ہیں گویا کہ وہ کشتیاں ہیں جو معرفت کے دریا میں تیرتی ہیں۔تَدَلَّتْ عَلَيْنَا الشَّمْسُ شَمْسُ الْمَعَارِفِ فَكُنَّا بِضَوءِ الشَّمْسِ نَمْشِي وَنَنظُرُ معارف کا سورج ہماری طرف جھک گیا پس ہم سورج کی روشنی کے ساتھ چلتے اور دیکھتے ہیں۔رَأَيْنَا مُرَادَاتٍ تَعَسَّرَنَيْلُهَا تَرَجَّزَ غَيْتٌ بَعْدَ مَكْثٍ يُحَدِّرُ ہم نے وہ مرادیں پائیں جن کا پانا مشکل تھا آہستہ آہستہ بادل نے ہماری طر حرکت کی بعد اس دیر کے جو ڈراتی تھی۔عَلَى هَذِهِ نِيفٌ وَعِشْرِينَ حِجَّةٌ إِذَا اخْتَارَنِي رَبِّي فَكُنتُ أَبَشَّرُ اس بات پر بیس برس اور کئی سال اوپر گزر گئے جبکہ خدا نے مجھے چن لیا اور مجھے بشارت ملنے لگی۔فَقَالَ سَيَأْتِيكَ الْأَنَاسُ وَنُصْرَتِي وَمِنْ كُلِّ فَجٍّ يَأْتِيَنَّ وَتُنصَرُ پس اس نے کہا کہ لوگ تیری طرف آئیں گے اور تیری مدد کرینگے اور ہر ایک راہ سے لوگ تیری طرف آئینگے اور تو مدد دیا جائیگا۔فَتِلْكَ الْوُفُودُ النَّازِلُونَ بِدَارِنَا هُوَ الْوَعْدُ مِنْ رَّبِّي وَإِنْ شِئْتَ فَاذْكُرُ پس یہ گروہ در گروہ لوگ جو ہمارے گھر میں اترتے ہیں یہ وہی وعدہ خدا کا ہے۔اور اگر تو چاہے تو یا دکر۔وَإِنْ كُنتَ فِي رَيْبٍ وَلَا تُؤْمِنَنُ بِهِ وَتَحْسِبُ كِذبًا مَا أَقُولُ وَاسْطُرُ اور اگر تو شک میں ہے اور اس پر ایمان نہیں لاتا اور تو میری بات اور تحریر کو جھوٹ سمجھتا ہے۔