القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 355 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 355

۳۵۵ إِذَا أَحْسَنَ الْإِنْسَانُ بَعْدَ إِسَاءَةٍ فَنَنْسَى الْإِسَاءَةَ وَالْمَحَاسِنَ نَذْكُرُ جب انسان بدی کے بعد نیکی کرے پس ہم بدی کو بھلا دیتے ہیں اور نیکیوں کو یادر کھتے ہیں۔وَإِنْ قُلْتُ مُرًّا فِي كَلَامٍ لَطَالَمَا رَأَيْتُ أَذًى مِنْكُمْ وَقَلْبِي مُكَسَّرُ اور اگر میں نے کسی کلام میں کچھ تلخ کہا ہے تو میں ایک زمانہ دراز تم سے دُکھا اٹھا تارہا اور دل میرا چور چور ہے۔وَمَا جِئْتُكُمْ إِلَّا مِنَ اللَّهِ ذِي الْعُلَى وَمَا قُلْتُ إِلَّا كُلَّمَا كُنتُ أَؤْمَرُ اور میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اپنی طرف سے نہیں اور میں نے وہی کہا ہے جو خدا نے فرمایا۔وَإِنْ شَاءَ لَمْ أُبْعَثْ مَقَامَ ابْنَ مَرْيَمَ وَلِلَّهِ فِي أَقْدَارِهِ مَايُحَيِّرُ اور اگر خدا چاہتا تو میں ابن مریم کی جگہ مبعوث نہ ہوتا اور خدا کے اپنی قضاء وقد ر میں ایسے ایسے امور ہیں جو حیران کر دیتے ہیں۔وَلَا يُسْئَلُ الرَّحْمَنُ عَنْ أَمْرِقَضَى وَيُسْئَلُ قَوْمٌ ضَلَّ عَمَّا تَخَيَّرُوا اور خدا اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا اور وہ قوم جو گمراہ ہو جائے وہ پوچھی جاتی ہے کہ کیوں ایسا کام کیا۔كَذلِكَ عَادَتُهُ جَرَتْ فِي قَضَائِهِ فَيَخْتَارُمَا يُعْمِي عُيُونًا وَيَاطِرُ اسی طرح اس کی عادت اپنے ارادہ میں جاری ہے پس وہ ایسے امور اختیار کرتا ہے جن سے آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں اور ٹیڑھی کر دیتا ہے۔وَمَا كَانَ لِي أَنْ أَتْرُكَ الْحَقَّ خِيفَةً جَوَادٌ لَنَا عِنْدَ الْوَغَى يَتَمَطَّرُ اور میں ایسا نہیں ہوں کہ حق کو ڈر کر چھوڑ دوں ہمارا وہ گھوڑا ہے جو جنگ کے وقت جلدی سے چلتا ہے۔وَقَالُوا إِذَامَا الْحَرْبُ طَالَ زَمَانُهَا لَنَا الْفَتْحُ فَانْظُرْ كَيْفَ دُقُوا وَكُسِّرُوا اور جب ایک لڑائی لمبی ہوگئی تو وہ کہنے لگے کہ فتح ہماری ہے۔پس دیکھ کس طرح وہ پیسے گئے۔وَمَا انُ رَأَيْنَا فِي الْمَيَادِيْنِ فَتْحَهُمْ وَمَنْ غَرَّهُ حَوْلٌ رَأَيْنَاهُ يُدْبِرُ اور ہم نے میدانوں میں ان کی فتح نہیں دیکھی اور جس کو کسی طاقت نے مغرور کیا ہم نے اس کو پیٹھ پھیر تے دیکھا۔رَأَيْنَا عِنَايَةَ حِبِّنَا عِنْدَعُسْرَةٍ وَكُلُّ صَدِيقِ فِي الشَّدَائِدِ يُخْبَرُ ہم نے اپنے دوست کی عنایت کو تختی کے وقت دیکھا اور ہر ایک دوست سختیوں کے وقت آزمایا جاتا ہے۔