اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 160

الهدى و التبصرة لمن يرى 17۔اردو ترجمہ أو يرعى الغنم الذئاب؟ سلّمنا أن بھیڑیے بھیڑوں کی رکھوالی کریں۔ہم تسلیم کرتے العلماء يعظون۔ولكن لا نُسلّم ہیں کہ علماء وعظ کرتے ہیں لیکن ہمیں یہ تسلیم نہیں کہ أنهم يتعظون۔وقبلنا أنهم وه خود نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ہم ان کی گفتار يقولون۔ولكن لا نقبل أنهم كے تو قائل ہیں لیکن ان کے کردار کے قائل يفعلون۔وهل عيب أفحش من نہیں۔کیا بغیر عمل کے بات کہنے سے بھی بڑا القول من غير العمل؟ وهل کوئی عیب ہے۔اور کیا ایک نا کام قنوطی يُتوقع أن يكون خائب مظهرًا (Pessimist) سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ للأمل؟ فاتركوا كل أحد من رجائیت (Optimism) کا مظہر ہو۔پس تم ان هذه الفرق مع کیده و کده فرقوں میں سے ہر ایک فرقہ کو اس کی تدابیر اور اس ١٠٢ وتحسسوا لعل الله يأتى أمرًا من کی مساعی سمیت چھوڑ دو۔اور تم جستجو کر وہوسکتا ہے عنده ووالله إن هذه فتن لن کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے کوئی امر ظاہر کر دے۔تصلح بهذه الذرائع ولا بشوری بخدا ان فتنوں کی اصلاح ان مذکورہ بالا ذرائع سے ومنتدى۔ولا بتجمير البعوث ہرگز نہ ہوگی اور نہ ہی کسی شوری اور کانفرنس سے، علــى ثـغـور الـعــدا۔ولا بأساة اور نہ ہی لشکروں کو دشمن کی سرحدوں پر جمع کرنے آخرين۔وإن هم الا من سے اور نہ ہی دوسرے معالجین سے۔وہ تو صرف المتصلفين۔وإن مثل جاهل لاف زنی کرنے والے ہیں۔اُس جاہل کی مثال يتصلف بعلمه وعرفانه۔كمثل جو اپنے علم و عرفان پر شیخی بگھارتا ہے اُس پلے جیسی جرو صاصا قبل أوانه أو ہے جو وقت سے کچھ دیر پہلے اپنی آنکھیں کھول کذباب يسابق البازی فی دے۔یا اُس مکھی کی طرح ہے جو اڑنے میں باز کا طيرانه فاعلموا یا مواسی مقابلہ کرے۔پس اے مسلمانوں کے ہمدردو اور المسلمين۔وأساة المتألمين۔أن دُکھیوں کے معالجو! یاد رکھو کہ اس قوم کا علاج علاج القوم في السماء لا فی آسمان میں ہے۔نہ کہ دانشوروں کے ہاتھ میں۔