الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 247
۲۳۸ طرح یقینی وحی نازل ہوئی ہے۔اس دوسرے شعر میں آپ یہ بیان کر رہے ہیں۔کہ آپ اپنی وحی پر یقین رکھنے میں انبیا ر سے کم نہیں ہو جھوٹ کے وہ لعین ہوتا ہے۔دوسرے حوالہ کے پہلے شعر میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ انبیاء اگر بچہ بہت ہوئے ہیں لیکن آپ معرفت الہی کے حصول میں کسی سے کم نہیں اور مسیح موخود کو ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔کیونکہ وہ حسب بیان حضرت شاہ ولی اشتر صاحب مجد دسدی دو از دهم آنحضرت سے اللہ علیہ وسلم اسم محمد کی شرح ادران به صورت کا ذکر ہے اس کے آگے چل کر آپ استری اور اس کا دوسرا نسخہ ہے۔میں فرماتے ہیں۔شعر نیک آئینه ام دریت خستی از پئے صورت هر مد کہ میں رہت فنی کی طرف او مدتی بینی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صرف ایک آئینہ کی حیثیت رکھتا ہوں۔یعنی مجھ میں جو تجلیات ہیں وہ صدرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض ہے۔میرا کوئی ذاتی کمال نہیں ہیں ان اشعار سے آپ کا اپنی دھی پر انبیاء کی طرح یقین اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خلقیت میں عرفان الہی کا انبیاء کی طرح پانے کا دعوی ہے اور یہ دخونی مفتی صاحب کے مزعومہ دوسرے دور کی عبارتوں سے کوئی تستفاد نہیں رکھتا۔پس حق بات یہ ہے کہ دور صرف دو ہی ہیں اور دوسرے اور میرے دور کے عنوان کے تحت مفتی صاحب کے پیش کردہ حوالہ جات میں کوئی