الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 248 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 248

۲۴۹ اختلاف نہیں۔اور نہ دعوئی میں مفتی صاحب کے مزعو مرد دوسرے دور کے شریان سے کچھ زیادتی ہے ، جبکہ میں طرح دوسرے دور کے مفتی صاحب کے چیش کہ دجالہ تجليات المیہ عثہ میں آپ نے تحریر فرمایا ہے :- اب پھر محمدی نبوت کے سب نبوتیں بنار میں شریت دانہ نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعیت کے نبی ہو سکتا ہے مگر رہی ہجر پہلے امتی ہوتے اسی طرح سب سے آخری بڑی کتاب چشمہ معرفت میں بھی لکھا ہے؟ ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر تو یہ امر ہے کہ ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی ثبوت نہیں اور نہ کوئی شریعیت ہے۔اگر کوئی ایسا دعوی کرے تو جاستیہ وہ بے دین ومردود ہے تاری شیر بیشتر معرفت ۳۲۳ ) پھر آگے فرماتے ہیں: خدا اس شخص کا دشمن ہے جو قرآن شریف کو منشوع کی طرح قرار دیتا ہے اور محمدی شریعت کے برخلاف چلتا ہے اور اپنی شریعیت چلانا چاہتا ہے" رحمه معرفت ۱۳۳۳ (۳۲۵ ) پس تجلیات الہیہ کی عبارت ہے مفتی صاحبنے دوسرے دور کے بیان کے آغاز میں درج کیا ہے اور چشمہ معرفت کی مندرجہ بالا عتبار نہیں جو حضرت سیع موجود علیہ السلام کی آخری زمانہ کی کتاب کی ہیں اس ایک ہی مضمون پر