الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 246 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 246

۲۴۷ (۲) میں مسیح موجود ہوں اور وہی ہوں میں کا نام سرور انبیاء نے نبی اللہ ر کھا ( نزول مسیح مش ) اور تیر سے دور میں اس کتاب نزول المسیح کے بعض اشعار ان کی ترتیب بدل کر یوں کوشیش کئے ہیں :- آنچه من بشنوم زوحی خدا بخدا پاک دامنش زخطا ہنچہ قرآن منزه اش دانم از خطا یا ہمیں است ایمانم ر نزول المسیح من التا اور نہ یہ دوسرے دور کی کسی ان کوئی بات اعتراض کسی عبادت سے اختلاف رکھتی ہے امنہ دوسرے دور کے دغا دی سے کسی بڑے دعوئی پر مشتمل ہے۔ان اشعار میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ اپنی وحی کو یقینی طور پر خدا کی طرف سے ہونے کی وجہ سے قرآن مجید کی دھی کی طرح خطا سے پاک جانتے ہیں اور ظاہر ہے کہ خدا تعالئے کی دھی کو جو کسی بنی پہ اترے خطا سے پاک ہی ہونا چاہیئے۔مفتی صاحب آگے نزول مسیح سے ذیل کے اشعار لکھتے ہیں :- انبیاء گر چه بوده اند یسے من بعرفاں نہ کمتر به زکیسے کم تیم زاں ہمہ ہر دئے یقیں ہر کہ گوید و روغ نیست امین آنچه دا دست برینی را حمام داد آن جام بر امرا بتمام ان نے بدل دی ہے اس حوالہ کا دوسرا شعر پہلے حواله ی این ترکیب مفتی صاحب مضمون بیان ہو رہا ہے کہ آپ پر انبیاء کی شعروں سے متعلق تھا جس