الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 210 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 210

بیچ نہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے محدود کا نام مسیح موعود رکھا ہے۔پس جبکہ زمانہ کی حالت موجودہ میں مبتلا رہی ہے کہ چودھری صدی کے مندر کا نام سیخ موجود ہونا چاہیے۔یا یہ تبدیل الفاظ یوں کہو کہ ایسی صدی کا مسیح موجود ہی مجدد ہو گا جس میں فتنہ صلیبہ کا ہوش و خروش ہو تو پھر کیوں اسمور ہے۔(ایام الصلح ۲۷۰) حاشیہ میں اس جگہ یہ نوٹ تحریر فرماتے ہیں کہ :۔ہم کئی دفعہ لے چکے ہیں کہ چودھویں صدی کا مجدد بوسیح موعود اہے اس کا منصب یہ نہیں کہ ختیوں اور مہنگا کر پیا زیوں سے کام نے، بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے علم اور مو کے موافق بردباری اور نرمی سے اتمام محبت کرے اور اس کے ساتھ حتی کو پھیلاد ہے۔ز حاشید ایام صلح ہے؟ ہے۔۔حمدی سے وصولی کے متعلق تحریر فرماتے ہیں۔ان ما خدا تعالے کی مصلحت اور حکمت کے رو سے ایک ایسے انسان کا آخری زمانہ میں آنا ضروری تھا جو برکات عیسویہ اور پر امت محمدیہ البات ہو اور اسی کے یہ دو نام احمد صدی اور میلے مسیح ہیں۔الرمل میں نے نصوص کے ڈر سے خدا تعالے کی حجت اس زمانہ کے لوگوں پر پوری کردی ہے" (ایام الصلح منشا) اد ہر حال امام الصلح میں مجدد کا دھونی بھی موجود ہے مسیح موعود کا د عریضی مینی موجود کا بھی اور مودی ہوائے کار موسی بھی موجود ہے۔