الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 194
140 کہ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں۔اس حدیث کا منشا بھی یہی ہے کہ اس امت کے علما ء ربانی پر انبیاء بنی اسرائیل کی طرح خدا کا یقینی کلامہ نانزال ہوگا۔اسی مضمون کی حدیث العلماء ورثۃ الانبیاء ہے کہ علماء ربانی انبیاء کے وارث ہیں۔پس اگر تسلیم کیا جائے کہ اس امت کے علمائے ربانی کو خدا تعالے کے یقینی مکالمہ مخاطبہ سے حصہ نہیں ملتا۔اور جو کچھ انہیں الہام ہوتا وہ مشکوک اور معنی ہی ہوتا ہے تو انبیاء کے وارث کیا ہوئے۔مفتی صاحب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس امت کو کمالات نبوت سے حصہ ملتا ہے پس اگر کمال نے نبوت پانے والوں پر نازل ہونے والے الہامات کو مشکوک سمجھا جائے تو ایسے الہامات کو کمالات نبوت قرار دینے میں خود انبیاء کی جنگ ہے کہ وہ اپنے متبعین کو خدا تعالے کا ایسا مقرب نہ بنا سکے کہ وہ خدا کے یقینی کلام سے صحت پائیں۔جو اُن کے مقرب الہی ہونے پر روشن دلیل ہو۔چونکہ مفتی صاحب خدا کے یقینی الہام سے خود محروم ہیں۔اس لئے وہ محدثین امت کے الہامات کو بھی غیر یقینی قرار دے کر رد کرنا چاہتے ہیں۔مگر مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہونے والے الہامات بر حکم و عدل ہیں۔اور جنہیں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی اللہ قرار دیا ہے۔دکرنے کا کسی امری کو حق نہیں قرآن کریم میں ہی تھی فیصلہ موجود ہے کہ ملائکہ کے مومنوں پر نزول کی غرض یہ ہے کہ خدا تعالے سے وحی حاصل کرنے کے بعد وہ مومنوں کی دھاریں بندھا نہیں۔