الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 193
۱۹۴ یعنی یه تنزیل ملائکہ نبوت عامہ ہے نہ تشریعی نبوت۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی المبشرات کو حدیث کمربن من النبوة إلا المبرات میں نبوت کا حصہ قرار دیا ہے پس جو امر نبوت کا حصہ ہو وہ مشکوک اور جھوٹ نہیں ہو سکتا۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ ریعنی اللہ عنہ انہیں مبشرات کے متعلق فرماتے ہیں :- ما كانَ مِنَ التَّبو يكذب۔کہ جو امر نبوت کا حصہ ہو وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی عورتوں پر جب یقینی وحی نازل فرمائی تو است محمدیہ کے محدثین کو یقینی دگی سے محروم قرار نہیں دیا جاسکتا۔دیکھئے حضرت مریم علیہا السلام کو جبریل نے مسیح کی ولادت کی بشارت دی تو یقینی رھی تھی۔اسی طرح اللہ تعالے نے حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ کو وحی کی کہ اس بچہ کو صندوق میں ڈال کر دریا میں پھینک دو۔اور نسلی دی کہ خدا تعالئے اس کی حفاظت کا سامان کرے گا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ پر یہ نازل ہونے والی بھی یقینی ملتی جس پر ان کی والدہ نے یقین کرتے ہوئے اپنے بچہ کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔اور پھر خدا تعالے نے دشمن کے ہاتھوں اس کی حفاظت فرمائی اور اس کی تربیت کا سامان کر دیا۔پس جب بنی اسرائیل کے اولیاء پر خدا کا یقینی کلام نازل ہوتا رہا ہے تو امت محمدیہ کے محدثین پر نازل ہونے والے کلام میں شک نہیں کیا جاسکتا مشہور حدیث ہے علماء امتي مَا نَبِيَاء بَنِي إِسْرَاءِيلَ