الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 195 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 195

194 چنانچہ فرماتا ہے۔اذبيتوني ربكَ إِلَى المَليكة انّي مَعَكُمْ إِلى فتوا الذين امنوا سَألْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ - (انفال : ١٣) عینی تیرا رب ملائکہ کی طرف وحی کر رہا تھا کہ یقینا میں تمہارے ساتھ ہوں۔اس تم مومنوں کے دلوں کو مضبوط کرو۔میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ ملائکہ کے ذریعہ مومنوں کے دلوں میں جو القاء موادہ ان کے دلوں کو یہ یقین دلانے کے لئے تھا کہ گھبراؤ نہیں تم یقینا فتح پاؤ گے ہیں مفتی صاحب کا یہ خیال کو لینا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو انعام ہوتا ہے وہ محض مشکی اور مطلقی ہوتا ہے اس قرآنی نص تطعیہ کے خلاف ہے۔H قرآن کریم کی وحی کو یقینی قرار دینے کے لئے فرمایا گیا ہے۔دينبت الله الذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ في الحيوة الدُّنْيَاء فِي الْآخِرَةِ (ابراهيم : ۲۸) یعنی اللہ تعالے مرضوں کو قول ثابت یعنی قرآن مجید کے ذریعہ دلی کی مصیبوں عطا کرتا ہے۔پس جس طرح اس آیت میں قرآن مجید کے متعلق یہ بتایا ہے کہ اس سے مومنوں کے دلوں میں یقین پیدا ہو کہ ان کے دل مضبوط ہوتے ہیں اسی طرح پہلی آیت میں یہ بتا یا گیا ہے کہ مومنوں پر مائکہ کا التقاء بھی ان کے دلوں کو