الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 155
۱۵۶ بلند ترین شان کو ظاہر کرتا ہے۔خاتم الانبیاء کو نبی الاولیا د سید المرسلین جب آپ نے مان لیا۔تو آپ کا اس کی سیادت اور روحانی بہت ہی کا ثبوت دینے کے لئے آپ کے فیضن روحانی سے کوئی انتی نہی تمام انبیار کا منظر ہو گر روحانی بادشاہ بننے اور آپ کی شریعت کی اشاعت کے الٹے مبعوث ہو تو اس کے ذریعہ جو نیا گستری ہوگی وہ در حقیقت آفتاب عالمتاب سالت محمدیہ کی ہی ضیا گستری ہوگی۔مفتی صاحب کیلیئے ، آفتاب عالمتاب آسمان پر موجود ہوتا ہے لیکن جب وہ لوگوں کی نگاہ سے اوجھل ہو جاتا ہے تو اس وقت چاند ستارپ شمعوں اور چراغوں کی ضرورت پیش آجاتی ہے لہذا آفتاب رسالت " محمد یہ تو آسمان پر اپنی پوری شان میں جلوہ گر ہے لیکن اس کی تجلیات کو قبول کرنے کے لئے لوگ جب دل کی کھڑکیاں بند کر لیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے نزدیک ضروری ہو جاتا ہے کہ اس آفتاب عالمتاب سے طقی طور پر منور ہونے والے کسی شخص کو مامور کیا جائے جو لوگوں کو جھنجوڑ جھوڑ کر ہی گائے تا مسلمان قوم جو پارہ پارہ ہو چکی ہو اس کے ہاتھ پر وحدت پا کر تعلیم ایرانی کو اکتشاف عالم میں پھیلانے کی طرف پوری طرح متوجہ ہو۔صرف آپس میں فرقے بنا کر ایک دوسرے سے جھنگ جھگڑا کر اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی طرف سے غافل نہ رہیں مسیح موعود اور مہدی محمود کا شکی نبوت کے ساتھ بھیجا جانا اسی لئے مقدر تھا۔مفتی صاحب کے ایک سوال کا جواب مفتی صاحب موصوف لکھتے ہیں :-