الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 154 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 154

100 صلے اللہ علیہ وسلم بعد مرفوع الی اللہ ہونے کے لوگوں کی نظر سے جسمانی طور پر او جھیل ہو جانے کے بعد اپنے افاضہ روحانیہ سے اپنے نور کی دنیا گستری عالم پر اپنے خلفاء اور محمد دین کے ذریعہ ہی کرتے ہیں۔اور آپ کے ہی نور کی منیا گستری کے لئے اقت میں مسیح موعود نبی اللہ کے بھیجے جانے کی آپ کی طرف سے پیش گوئی موجود ہے۔مفتی صاحب سے اس جگہ مفتی صاحب سے مہمارا ایک ضروری سوال ہے ایک ضروری سوال تو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ رحمت کا بھا نمک کھل جانے پر وہ حضرت کیلئے عالیہ اسلام نی اللہ کی آمد کے کیوں قائل میں کیونکہ بقول ان کے کسی ستارے اور چراغ کی ضرورت نہیں ؟ جب بقول مفتی صاحب رحمتہ للعا مابین کے ذریعہ رحمت کا پھاٹک کھل جانے کے بعد اب کسی نبی کی ضرورت نہیں تو پھر تاریکی کے دور آخر الزمان میں مسیح موعود نبی اللہ کا بھیجا جانا کیوں مقدر ہوا۔اگر آخری زمانہ میں کسر صلیب اور قتل خنزیہ کاکام جو سیع موجود کا کام ہے اور اسی فرح تحکم کا فرض ایک بنی کے بغیر ادا ہو سکتا ہے تو ہمارا سوال ہے کہ پھر ایک نبی کا بھیجا جانا کیوں مقدر ہوا جس کی انتظار میں مفتی صاحب بھی عظیم بیاہ ہیں ؟ اگر آغضرت سلے اللہ علیہ وسلم کے ماتحت صدیقین، شہداء اور صالحین اولیاء کا وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان نور گستر او را فاطمه روحانیہ کو صلی اللہ ظاہر کرتا ہے تو ایک آنتی کا آپ کے لین ہے آپ کے بخت مقام نبوت پاتا تو اس سے زیادہ شدت کے ساتھ آپ کی نورگستری اور افاضہ روحانیہ کی را کو