الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 135
تی محمد شفیع صاحب نے اس حدیث کو اپنی کتا ہے ختم نبوت کا مل کے پر نقل کیا ہے اور تقسیم کی الیون کے معنی یہ لکھا ہیے ہیں کہ میرے ساتھ تمام نبیوں کو ختم کیا گیا ہے۔مگر ختم کرنا بمعنی بندر کنا یا آخر کو مینا ختم مادر کے مجازی معنے ہیں جیسے مفردات القرآن کے حوالہ سے ہم پہلے تنا نیچے ہیں اس جگہ ان کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔پھر علی الاطلاق نہ کرنا بالسلی الاطلاق آخری ہوتا کے الفاظ افضلیت کے لئے موضوع ہی نہیں۔دیا کہ مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی نے فرمایا ہے۔اور یہ بھی سکھا دیتے۔تا زمانی انفیت کے لئے موضوع نہیں افضلیت کور ستلام نہیں۔افضلیت سے بالذات اس کو کچھ علاقہ نہیں کہ ز که تقدم و تا تو زمانی میں بالذات۔( مناظره عجیبه مشت اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد واضح ہو جاتا ہے کہ اس حدیث کے الفاظ ختم بی النبیون کے جرمنی مفتی صاحب نے کئے ہیں وہ اس جگر منطبق نہیں ہو سکتے کیونکہ اس حدیث میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء پر اپنے کچھ فضائل بیان کئے ہیں۔جن میں چھٹی فضیلت خستم بی النبیون ہے اس لئے ختم بی النبیون کے ایسے معنی لینا نہ دوری ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام انبیاء پر افضلیت ذاتیہ پر روشن دلیل ہوں۔ختم کرنے اور آخری کے معنی کا افضلیت سے بالذات کوئی علاقہ میں