الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 134
۱۳۵ إلَى الْخَليَ كَانَةً وَخُتِمَ في النَّبِيُّونَ۔( رواه مسلم في الفضائل ترجمہ۔مجھے بجھے باتوں میں نبیوں پر فضیلت دی گئی ہے مجھے کلمات جامہ عطا کئے گئے ہیں۔رجب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے۔اموال غنیمت میز لئے حلال کئے گئے ہیں۔تمام زمین میرے لئے نماز پڑھنے کی جگہ اور تقسیم کے ذریعہ پاک کرنے والی بنائی گئی۔میں ساری خلقت کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔سب انبیاء میرے ذریعہ خاتم دکتر لگائے گئے ہیں۔دینی سب انبیاء کی نبوتیں میری خاتم روحانی کا فیض ہیں اور میری خاتم روحانی ان کی مصدق اور ان کو مستند کرنے والی ہے، ہم پہلے مفردات القرآن کے حوالہ سے بتا چکے ہیں کو ختم مصدر کے منے تاثیر الٹی اور اس کا اثر حاصل ہیں۔مادی خاتم (صر، اپنے اندر کند و نقش کے ذریعہ آگے نقش پیدا کرتی ہے، یہ نقوش بواسطہ اس قہر کے پیدا ہوتے ہیں اور ان کا اثر حاصل اس مضمون کا مستند ہو جاتا ہوتا ہے جس پر پر لگائی جاتی ہے جیسے تنادی پر علماء کی مریں فتویٰ کے مضمون کو مستند بنانے کا اثر رکھتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی مادی خاتم نہیں بلکہ ہر دھانی خاتم ہیں۔لہذا آپ کے خاتم النبین ہونے کی وجہ سے فائم۔خاتم پر قرآنوں کے لحاظ سے آپ کی ختم کی تاثیر سے المیار ظہور میں آتے رہے اور آسکتے ہیں۔اور ان سب کی نبوتیں اس خاتم روحانی یا صاحب خاتم روحانی کی تاثیر کا اثر حاصل یعنی فیض ہیں اور اس خاتم برو بھائی سے تصدیق داستناد پاتی ہیں۔