الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 136
مگر آغضرت سے اللہ علیہ وسلم ختم بی التبیون کے الفاظ سے تمام انبیاء پر اپنی افضلیت ذاتی ثابت کرنا چاہتے ہیں اور یہ افضلیت آپ کو ختم کے معنی تاثیر انٹی لے کر ہی حاصل ہوتی ہے۔پس خستم بی النبیوں سے مراد اس جگہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا انبیاء کے ظہور کے لئے بطور رومانی خاتم تاثیر کا ذریعہ ہونا یا موثر بنی ہوتا مراد ہے۔اور اس اثر حاصل ان سے ہونا ہے، اس میرے ذریعہ انبیاء مرلگائے گئے ختم بی انتسبتوں کے نقره کا حقیقی معنوں کے لحاظ سے لفظی تر تمیہ ہے۔اس حدیث سے لفظ لفظ مولانا محمد قاسم صاحب کا یہ بیان سنچا قرابه پاتا ہے۔کہ خاتم النبین کے اصل معنی کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی یوت بالذات ہے اور سوا آپ کے اور نبیوں کی نبوت با لعرض ہے یعنی اوری کی نبوت تو آپ کا نبی ہے اور آپ کی نبوت کسی اور بنی کا فیض نہیں۔اور اس حدیث کی رو سے مولانا محمد قاسم صاحبت کا یہ بیان بھی سچا قرار پاتا ہے کہ ان معنوں کے رو سے آنحضرت کی افضلیت انبیاء کے افراد حنا جی (انبیا کے سابقین) پرسی ثابت نہیں ہوتی ملیکہ افراد مقتدرہ پر بھی ثابت ہو جاتی ہے اور بالفرض اگر بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔عالم روحانی ہوتوں کا اس تاثیر رفت ر مدیر الناس مش ۲ و ۲۸ بلحاظ ایڈیشن مختلف شد پس میرے ساتھ تمام نبیوں کو ختم کیا گیا ختم بی النبیون کے حقیقی