حضرت عائشہ صدیقہ ؓ — Page 9
اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ 9 دودھ پلانے کے بدلے میں پیسے دیئے اور نہ ہی کسی نے پیسے مانگے ) آپ فرماتی ہیں کہ میری رخصتی میں نہ کوئی اونٹ ذبح کیا گیا اور نہ کوئی بکری ہاں ایک کھانے کا پیالہ تھا جس کو سعد بن عبادہ نے حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا ہوا تھا۔وہ گھر کیسا تھا ؟ حضرت عائشہ جس گھر میں رخصت ہو کر آئی تھیں وہ کوئی عالی شان عمارت نہ تھی۔بنی نجار کے محلہ میں مسجد نبوی کے چاروں طرف چھوٹے چھوٹے کئی مجرے تھے ان ہی میں ایک حجرہ حضرت عائشہ کا گھر تھا جو مسجد کی مشرقی طرف تھا اس کا ایک دروازہ مسجد کے اندر مغربی رخ پر تھا جس سے مسجد نبوی اس کا مسکن بن گئی تھی ، آنحضرت میں نے اسی دروازے سے گزر کر مسجد میں داخل ہوتے تھے۔حجرہ کی دیواریں مٹی کی تھیں۔کھجور کے چوں اور ٹہنیوں کی چھت تھی جس پر کمبل ڈال دیا گیا تھا تا کہ بارش کا پانی چھت سے ٹپک نہ سکے۔(6) گھر کی سادگی کا یہ حال تھا کہ اس میں صرف ایک چار پائی ، ایک چٹائی ، ایک بستر ، ایک تکیہ جس میں کھجور کی چھال (کھجور کے درخت کا چھلکا ) بھری تھی۔آٹا اور کھجوریں رکھنے کے ایک دو برتن ، پانی کا ایک برتن اور پانی پینے کا ایک پیالہ تھا۔(7) آپ کے گھر میں آنحضرت ﷺ اور حضرت عائشہ صرف دوافراد