حضرت عائشہ صدیقہ ؓ

by Other Authors

Page 8 of 29

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ — Page 8

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ 8 سلمان ہونے کی وجہ سے امید تھی کہ وہ لمبی عمر پائیں گی اور اس طرح انہیں مہ عورتوں میں درس و تدریس اور تبلیغ کا زیادہ موقعہ مل سکے گا۔بچو! اب شادی کا حال سُنو ! مدینہ کے انصار کی عورتیں سُسرالی بن کر دلہن کو لینے کے لئے حضرت ابو بکر صدیق کے گھر آئیں۔حضرت عائشہ اپنی سہلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھیں۔ماں نے اپنی بیٹی کو بلا کر منہ دھلایا، بال سنوارے پھر ان کو اس کمرے میں لے گئیں جہاں انصار کی عورتیں دلہن کے ابھار میں بیٹھی تھیں (مدینہ کے پرانے رہنے والے مسلمانوں کو انصار کہا جاتا ہے جس کے معنی ہیں مدد کرنے والے چونکہ صلى الله آنحضرت ﷺ نے ایک ایک انصار کو ایک مہاجر کا بھائی بنا دیا اور انصار نے اپنے گھر اور گھروں کا آدھا سامان خوشی سے مہاجروں کو دے دیا۔) دلہن جب کمرے میں داخل ہوئی تو مہمانوں نے یہ گیت گایا عَلَى الْخَيْرِ وَ الْبَرَكَةِ وَ عَلَى خَيْرِ طَائِرٍ یعنی تمہارا آنا بھلائی اور برکت والا ہو اور نیک شگون ہو یعنی شادی مبارک ہو رخصتی کے وقت آنحضرت ﷺ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ پیش کیا گیا۔آپ ﷺ نے اس میں سے تھوڑا سا دودھ پی کر پیالہ حضرت عائشہ کی طرف بڑھایا جس کو انہوں نے جھجکتے ہوئے قبول الله کیا۔(5) (لیکن آج کل کے رواج کے مطابق نہ آنحضور ﷺ نے کسی کو