احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 48
تعلیمی پاکٹ بک 48 حصہ اوّل اللہ و رسول علیہ سے لڑنے والوں کو محض صلیب پر لٹکا کر زندہ ہی اتار لیا جائے بلکہ یہ مراد ہے کہ صلیب پر لٹکا کر مارا جائے۔:3 وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيِّمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا۔(النساء : 160) یہ آیت بَلْ زَفَعَهُ الله کے بعد آتی ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اہل کتاب میں سے ہر ایک اس واقعہ قتل وصلب کو مانتا ر ہے گا۔اپنی موت سے پہلے پہلے اور قیامت کے دن مسیح ایسا ماننے والوں پر گواہ ہو گا ( کہ وہ نہ اس کو قتل کر سکے تھے نہ صلیب پر ہی مار سکے تھے بلکہ وہ طبعی وفات کے بعد مرفوع الی اللہ ہوئے تھے۔نہ جیسا کہ ان کا زعم تھا کہ وہ مارے گئے اور ملعون ہوئے ) اس آیت میں سیاق کلام کے لحاظ سے ضمیر یہ کا مرجع یہودیوں کا مزعوم واقع قتل وصلیب ہے اور موتہ کی ضمیر کا مرجع ہر اہل کتاب ہے جو مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ کے قرآنی اعلان کے سُن لینے کے بعد بھی ضد سے اپنی زندگی میں یہی عقیدہ رکھے کہ مسیح قتل ہو گیا ہے یا صلیب پر مارا گیا ہے اور يَكُونُ کا فاعل مسیح علیہ السلام ہیں جو قیامت کے دن ان منکرین کے خلاف مندرجہ بالا شہادت دیں گے۔بعض مفسرین نے لیو مِنَنَّ بِہ میں بہ اور موت ہر دو کی ضمیروں کا مرجع حضرت مسیح کو قرار دے کر اس آیت کے یہ معنی لئے ہیں کہ حضرت مسیح کی موت اُس وقت تک واقع نہ ہوگی جب تک سب اہل کتاب ان پر ایمان نہ لے آئیں۔اور چونکہ ابھی کئی اہل کتاب ان پر ایمان نہیں لائے لہذا ابھی حضرت مسیح کی موت واقع نہیں ہوئی۔یہ استدلال بدیں وجود باطل ہے:۔اول۔اگر مسیح کی موت سے پہلے ہر اہل کتاب کے متعلق اس آیت