احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 49 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 49

تعلیمی پاکٹ بک 49 حصہ اوّل میں حضرت مسیح پر ایمان لانے کی پیشگوئی کی گئی ہے تو پھر اس آیت کے نزول کے بعد کیوں اب تک لاکھوں یہودی حضرت مسیح پر ایمان لائے بغیر مر رہے ہیں؟ اگر اس کے جواب میں یہ کہا جائے کہ اس پیشگوئی کا وقوع مسیح کے آخری زمانہ میں نزول کے وقت ہوگا اور اُس وقت سب یہود بلا استثناء آپ پر ایمان لائیں گے تو یہ معنی بھی دیگر نَصِ قرآنی کے خلاف ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ پیشگوئی فرمائی ہے: وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِمَةِ - (آل عمران : 56 کہ اے مسیح! میں تیرے متبعین کو تیرے منکرین پر قیامت کے دن تک غالب رکھنے والا ہوں۔پس اس آیت کی رُو سے مسیح کے منکرین کا وجود قیامت تک موجود رہنا موعود ہونے کی وجہ سے ضروری ہوا تو یہ بات باطل ہوئی کہ ان کے نزول کے وقت آخری زمانہ میں سب یہودی اُن پر ایمان لائیں گے۔دوم۔اس آیت کی دوسری قراءت وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِمُ بھی حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے۔(ملاحظہ ہو تفسیر ثنائی از مولوی ثناء اللہ صاحب پانی پتی و دیگر تفاسیر ) انہوں نے اور بعض دوسرے مفسرین نے بھی قرآتِ ثانی کو ملحوظ رکھتے ہوئے موتہ کی ضمیر کا مرجع ہر اہل کتاب کو قرار دیا ہے پس جب موتہ کی ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہوئے تو مسیح کی زندگی کا استدلال باطل ہوا۔اور ویسے بھی کسی نبی پر ایمان لانے کے لئے اس نبی کی جسمانی زندگی بوقت ایمان ضروری نہیں ہوتی۔