احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 47
تعلیمی پاکٹ بک 47 حصہ اول خدا یہ بتا رہا ہے کہ واقعہ صلیب کے پیش آنے سے یہود نے اُن کو ( حضرت مسیح کی غشی کے مُردہ سے مشابہت شدیدہ کی وجہ سے ) مردہ سمجھ لیا اور یہ کہنا شروع کر دیا اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ اب خدا قرآن میں بتاتا ہے کہ مَا قَتَلُوهُ يَقِينا کہ یہودی حضرت مسیح کو قتل نہیں کر سکے۔پس ان کا یہ قول بھی غلط ہے اور اس کا نتیجہ عدم رفع کا جو وہ نکالتے ہیں وہ بھی درست نہیں بلکہ واقعہ صلیبی کے بعد جس سے مسیح کو بچالیا گیا ہمارے اس تردیدی بیان سے پہلے پہلے کہ مسیح مصلوب و مقتول نہیں ہوا۔حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع حسب آیت إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ ہو چکا ہے۔آیت وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَاوِيْلَ عَنك میں اسی بات کا ذکر ہے کہ یہودی مسیح کو قتل کرنے اور صلیب پر مارنے پر قادر نہیں ہو سکے۔خدا کی تدبیر نے ان کے قادر ہونے میں روک پیدا کر دی۔اور خدا کی تدبیر کا ایک حصہ یہ تھا کہ مسیح کوشی کی حالت میں صلیب سے اتار لیا گیا اور یہودیوں نے غلطی سے انہیں مردہ سمجھ کر یہ دعویٰ کر دیا کہ ہم نے مسیح کو مار دیا ہے اب قرآن کریم ما قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ کہ کر انہیں اس غلط عقیدے سے بچانا چاہتا ہے کہ (حضرت) عیسی نے لعنتی موت کے بعد خدا کی حضوری اور قرب کا شرف حاصل نہیں کیا۔واضح رہے کہ لغت عرب میں طلب کے معنی صلیب پر مار دینا ہیں نہ کہ صرف صلیب پر لٹکا نا۔لغت عربی میں لکھا ہے اَلصُّلْبُ : الْقِتْلَةُ الْمَعْرُوفَةُ (لسان العرب) کہ صلیب کے معنی ہیں معروف طریق پر مار دینا اس پر قرآن کی آیت إِنَّمَا جَزَ وُا الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا (المائدة:34) بھی روشنی ڈالتی ہے اس کے یہ معنی نہیں کہ