احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 42
تعلیمی پاکٹ بک 42 حصہ اول اللہ تعالیٰ سے قرب کا وہ مقام حاصل ہو جو پہلے انہیں حاصل نہ تھا۔یہ رفع الی السماء تو ہر نبی کو حاصل ہوا ہے چنانچہ اسی لئے معراج میں آنحضرت ﷺ نے انبیاء کرام کو مختلف آسمانوں میں دیکھا اور بموجب حدیث صحیح بخاری حضور ﷺ نے حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کی خالہ کے بیٹے حضرت سکیٹی کو اکٹھے دوسرے آسمان پر دیکھا جو وہاں برزخی زندگی گزار رہے ہیں اور حضرت موسی کو سا تو میں آسمان پر دیکھا اور خود حضور ﷺ نے اپنا مقام حضرت موسی سے بھی آگے بڑھا ہوا مشاہدہ فرمایا۔حضرت عیسی علیہ السلام کا حضرت یحییٰ علیہ السلام کے ساتھ ہونا جو شہید ہوکر دوسرے آسمان پر پہنچے ہوئے تھے اور عالم برزخ کی زندگی گزار رہے تھے خود اس بات کی روشن دلیل ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بھی بعد از وفات طبعی عالم برزخ میں رکھے گئے عالم برزخ کا مشاہدہ انسان یا تو عالم خواب و کشف میں کرتا ہے یا وفات کے بعد وہاں پہنچ کر کرتا ہے عالم برزخ میں انسان کا مادی وجود ساتھ نہیں ہوتا بلکہ روح کو ایک لطیف روحانی جسم عطا کیا جاتا ہے جس کے ساتھ وہ عالم برزخ کا مشاہدہ کرتا ہے یا خود اس میں پہنچ جاتا ہے۔حدیث نبوی عملے میں رفع کے ساتھ اِلَی السَّمَاءِ کا لفظ بھی موجود ہے مگر چونکہ خدا تعالیٰ انسان کو دفع صرف درجات کی بلندی کی صورت میں دیتا ہے اس لئے حدیث نبوی ﷺ میں رفع الی السماء سے مراد کسی خاص آسمان میں درجہ کی بلندی ہوتا ہے نہ کہ رفع جسم۔حدیث نبوی ﷺ کے الفاظ یہ ہیں۔إِذَا تَوَاضَعَ رَفَعَهُ اللهُ بِالسّلْسِلَةِ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ۔(كنز العمال جلد 3 صفحه 117 باب التواضع جب بندہ (خدا کے حضور ) عاجزی اور انکسار کرتا ہے تو خدا اُسے ساتویں آسمان پر ایک زنجیر کے ساتھ اُٹھالیتا ہے۔