احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 41
ی پاکٹ بک 41 حصہ اوّل اسی طرح شیعہ کتب میں روایت ہے۔دَعَا اللَّهُ نَبِيَّةَ وَرَفَعَهُ إِلَيْهِ (الکافى كتاب الروضة و تفسیر صافی صفحه 113) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بلا لیا اور اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔یعنی با عزت وفات دے کر آپ کے مدارج کو بلند کیا۔پس رفع کا کمال مومن کو وفات کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے خواہ قبل از وفات بھی اسے خدا تعالیٰ کے حضور میں مقامات رفیعہ حاصل ہوں۔قرآن کریم کی آیت عَامِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يُخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ۔(الملک: 17) کے پیش نظر مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی حضرت مسیح کے متعلق رفع الی اللہ سے مراد تا ویلا رفع الی السماء قرار دیتے ہیں حالانکہ انہیں خود یہ مسلم ہے کہ خدا تعالیٰ کو کسی جہت میں ماننا کفر ہے اور مَنْ فِي السَّمَاءِ کی تشریح میں لکھتے ہیں۔کہ اس کے لئے جہت فوق ماننا تقاضائے فطرت ہے جس کے یہ معنی ہوئے کہ حقیقت میں اس کے لئے جہت فوق بھی نہیں مگر فطرت انسانی اس کو استعارةً او پر تصور کرتی ہے۔واضح رہے رفع الی اللہ کی تاویل رفع الی السماء ماننے کی صورت میں بھی رفع کے معنوں میں رفع جسمی مراد نہیں ہوسکتی کیونکہ خدا تعالیٰ کا جہت فوق میں ہونا ایک استعارہ ہے نہ کہ حقیقت اور اسم الہی الرافع کا تقاضا مراتب میں رفعت دینا ہے نہ کسی کے جسم کا اٹھانا جیسا کہ قبل ازیں لغت کے حوالہ سے ثابت کیا جا چکا ہے۔پس حضرت مسیح کی روح کا رفع تو آسمان کی طرف مانا جاسکتا ہے تا اسے