احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 36
تعلیمی پاکٹ بک 36 36 حصہ اوّل ان کا یہ قول نقل کیا کہ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللهِ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے پہلے تو ان کے قول کے الفاظ کی تردید میں فرمایا۔مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبُه لَهُمْ که یهودی نه مسیح کو قتل کر سکے اور نہ صلیب پر مار سکے۔بلکہ وہ درحقیقت خودشبہ میں ہیں۔مسیح کو خدا نے بچالیا مگر انہوں نے اسے مردہ خیال کرلیا۔اس کے بعد ان کے اس قول اور دعویٰ کے نتیجہ کی تردید کہ مسیح ملعون ہوا، وہ کافر تھا، گویا مومنوں کی طرح اس کا رفع نہیں ہوا یہ کہہ کر فرما دی بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ کہ یہودی حضرت مسیح کو مار نہیں سکے بلکہ طبعی موت کے بعد ان کا رفع الی اللہ مومنوں کی طرح ہوا جیسا کہ آیت يُعِيْسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَى کے وعدہ الہی سے ظاہر ہے کہ طبعی وفات کے بعد ان کا رفع الی اللہ موعود تھا۔یعنی یہودیوں کی تدبیر کے بالمقابل اس آیت میں وعدہ تھا کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح کو اُن کے ہاتھ سے بچالے گا اور ان کی عمر پوری کر کے انہیں طبعی وفات دے گا اور پھر مومنوں کی طرح ان کا اپنی طرف رفع کرے گا یعنی ان کی روح کو بعد از وفات اپنی حضوری کا شرف عطا فرمائے گا جیسا کہ اس کا طریق مومنوں کے متعلق ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ یہودی یہ کہتے تھے کہ عیسیٰ کا فر وملعون مر گیا ہے اور اس کے نتیجہ میں یہ سمجھتے تھے کہ اس کا اللہ تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوا اور اللہ تعالیٰ نے گویا اس کا یہ جواب دیا ہے بَلْ مَاتَ مُؤْمِناً مَرْفُوعًا إِلَى اللَّهِ حسب آیت يُعِيْنَى اِنّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ اِلَى۔لہذا اس آیت میں بل کا لفظ یہودیوں کے اس غلط عقیدہ کی تردید میں ہے کہ مسیح کے صلیب پر مرنے اور ملعون ہو جانے کی وجہ سے مومنوں کی طرح ان کا رفع الی اللہ نہیں ہوا کیونکہ یہود نے گمان کر لیا تھا کہ مسیح در حقیقت ان کے علماء کے فتوے سے مارا گیا ہے اس لئے وہ رفع الی اللہ سے محروم