احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 37
تعلیمی پاکٹ بک 37 حصہ اوّل رہ گیا ہے پس خدا تعالیٰ نے مسیح کے مقتول ومصلوب ہونے کی نفی بھی فرما دی اور بل رَّفَعَهُ الله الله - کہہ کر یہودیوں کے مزعومہ نتیجہ کی تردید بھی فرما دی کہ وہ ملعون ہو گیا ہے۔یہودیوں کا یہ اعتقاد نہ تھا کہ جوصلیبی موت سے بچ جائے اس کا جسم آسمان کی طرف اٹھایا جاتا ہے اگر ایسا خیال ہوتا تو پھر بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ۔کے یہ معنی قرار دینے کا امکان ہوتا کہ خدا نے تو حضرت مسیح کے جسم کو آسمان پر اٹھالیا ہے پس سیاق آیت اس بات پر روشن دلیل ہے کہ آیت بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ میں مسیح کے جسم کا اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھایا جانا مراد نہیں۔جسمانی رفع اللہ تعالیٰ کی طرف محال ہے: ماسواس کے واضح رہے کہ کسی شخص کے جسم کا خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا جانا تو محال ہے کیونکہ اس صورت میں خدا تعالیٰ کو محدود المکان ماننا پڑتا ہے حالانکہ وہ جہات سے پاک ہے اور اس کو کسی جہت میں محصور قرار دینا اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔اسلامی تعلیم کی رو سے تو ہر وقت خدا تعالیٰ انسان کے ساتھ ہوتا ہے بموجب آیت نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ( ق : 17) خدا تعالیٰ اور بندے کے درمیان اس آیت کی روشنی میں کوئی بعد یا فاصلہ اس لئے تجویز نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ جہات ستۃ سے پاک اور منزہ ہے اور اس کو کسی خاص جہت میں قرار دینا عقیدہ کفریہ ہے اور رفع جسمی دو چیزوں میں فاصلے اور سفر طے کرنے کے بغیر متصورنہیں ہوسکتا چونکہ بموجب تعلیم اسلامی حضرت مسیح اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی فاصلہ اور بعد تجویز نہیں کیا جا سکتا اس لئے حضرت مسیح کا اللہ تعالیٰ کی طرف رفع جسمی مستلزم محال ہونے کی وجہ سے محال ہے کیونکہ رفع جسمی خدا تعالیٰ کے ذو جہت ہونے کو چاہتا ہے