احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 35
تعلیمی پاکٹ بک 35 حصہ اول اگر مولوی ابراہیم صاحب کا پیش کردہ قاعدہ نحوی ولکن کے بعد جملہ خبر یہ آنے کی صورت میں پہلے منفی فعل کو ولیکن کے بعد مثبت رنگ میں محذوف ماننا جائز ہوتا تو مندرجہ بالا تینوں قرآنی امثلہ میں بھی یہ قاعدہ جاری ہوتا۔اللہ تعالی کا طریق یہ ہے کہ اگر وہ ولکن سے پہلے منفی فعل استعمال کرے اور پھر ولکن اس جگہ استدراک کی خاطر اپنے بعد اس فعل کے مثبت صورت میں استعمال کا تقاضا کرے اور اس طرح ولکن کے بعد ایک جملہ فعلیہ کا تقاضا ہو تو پھر خدا تعالیٰ ولکن کے بعد مثبت فعل کو مقدر نہیں رکھتا بلکہ اس کا لفظ ذ کر کرتا ہے۔ایسے فعل کو مقد روہاں کیا جاتا ہے جہاں ولکن کے بعد مفرد لایا جائے یا ایسا مرکب جو مفرد کے حکم میں ہو نہ کہ خود جملہ خبریہ ہو۔4 : بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ - (النساء : 159) یہودی اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللهِ۔کہہ کر یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ چونکہ عیسیٰ (علیہ السلام ) کو ہم نے قتل کر دیا ہے اس لئے وہ بموجب تو رات دعویٰ نبوت میں مفتری تھا۔جو گروہ مسیح کے مصلوب ہونے کا قائل تھا۔وہ یہ عقیدہ رکھتا تھا کہ یہودی علماء کے فتویٰ پر صلیبی موت سے مرنے والا خدا کا ملعون ہوتا ہے۔چونکہ ملعون خدا سے دور ہوتا ہے لہذا اس کے مرنے کے بعد خدا کی طرف اس کا رفع نہیں ہوتا۔پس یہودی خواہ وہ مسیح کے مقتول ہونے کے قائل تھے خواہ مصلوب ہونے کے وہ اس کے نتیجہ میں حضرت مسیح کو ملعون قرار دینے میں ان کے روحانی رفع کے منکر تھے اور اب تک منکر ہیں کیونکہ وہ انہیں اپنے دعوی میں جھوٹا قرار دیتے ہیں لہذا یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مومنوں کی طرح ان کا رفع خدا کی طرف نہیں ہوا۔یہ وہ امر تھا جس کا فیصلہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں