احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 526
ندی تعلیمی پاکٹ بک 526 حصہ دوم مِنْ قِبَلِ نَفْسِى فَإِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ أُخْطِئُ وَأصِيبُ، (نبراس شرح الشرح العقائد النسفى صفحه (392) کہ جو بات میں تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے بتلاؤں وہ حق ہے اور جو اجتہاداً اپنی طرف سے کہوں تو میں انسان ہوں خطا بھی کرسکتا ہوں۔اور درست بات بھی کہتا ہوں۔فضلیت کے مسئلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عقیدہ میں بھی تبدیلی ہوئی تھی۔ایک وقت آپ فرماتے تھے:۔لا تَخَيَّرُونِي عَلَى مُوسَى“۔( صحیح بخاری کتاب الخصومات باب ما يذكر في الاشخاص۔۔۔۔۔۔) یعنی مجھے موسیٰ پر فوقیت نہ دو۔لیکن جب آپ کو خاتم النبیین قرار دیا گیا تو اس الہامی انکشاف پر جو تمام انبیاء پر آپ کی فضیلت کو ظاہر کرتا تھا آپ نے یہ اعلان فرما دیا:۔فضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍ“۔(صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلاة) کہ مجھے چھ باتوں میں تمام نبیوں پر فضیلت دی گئی ہے اور آخری بات یہ بتائی کہ خُتِمَ بِي النَّبِيُّون کہ میرے بعد تشریعی انبیاء کا آنا منقطع ہو گیا ہے۔اور غالباً اس آیت کے نزول کے بعد ہی آپ نے فرمایا کہ آنَاسَيِّدُ وُلْدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ “ کہ میں تمام بنی نوع کا سردار ہوں اور یہ کوئی فخر یہ بات نہیں (یعنی یہ اظہار حقیقت ہے ) اور یہ بھی فرمایا کہ أنَا سَيِّدُ النَّبِيِّينَ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ (دیلمی) کہ میں سب پہلے اور پچھلے نبیوں کا سردار ہوں کیونکہ خاتم النبیین کا یہ بھی