احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 388 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 388

تعلیمی پاکٹ بک 388 حصہ دوم میں تبدیل کر دی گئیں تھیں اور مدر سے اور اوقاف ویران ہو گئے تھے۔قومی عصم بھی سکھوں کے رحم و کرم پر تھی۔مسلمان قوم کی بیٹیوں کی عزت محفوظ نہ تھی۔ان حالات میں جب انگریز نے 1853ء میں سکھوں کو شکست دے دی۔تو اس نے مسلمانوں سے حکومت نہیں چھینی تھی۔انگریزوں نے مسلمانوں کو محمڈن پرسنل لا کی آزادی دی۔ملک میں طوائف الملو کی اور لاقانونیت کی جگہ ایک مضبوط عادلانہ حکومت قائم کر دی۔مسلمانوں کے اوقاف اور مذہبی ادارے پھر سے زندہ ہونے لگے۔مذہبی تعلیم پر سے ناروا پابندیاں اٹھائی گئیں۔اس طرح پنجاب کے مسلمانوں نے جو ایک عرصہ سے سکھوں کے ظلم وستم کا تختہ مشق بنے ہوئے تھے۔اب انہوں نے انگریز کی سلطنت میں سکھ کا سانس لیا اور انگریزی حکومت کو ایک نعمت سمجھا۔ان حالات میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام انگریز کی مخالفت کیسے کر سکتے تھے؟ مسلمانوں نے اب جو آزادی انگریزوں سے حاصل کی ہے۔وہ بھی جہاد بالسیف کے ذریعہ سے حاصل نہیں کی۔بلکہ آئینی طریق سے حاصل کی ہے۔سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کو اعتراف ہے:۔”1857ء کے ہنگامے میں علماء شریک ہوئے اور نا کامی کے بعد مارے گئے۔کچھ قید ہوئے۔ہزاروں انسان قتل ہوئے۔شہزاد کے قتل ہوئے۔ان کا خون کیا گیا۔ان مصیبتوں کے بعد ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔اسلامی حکومت قائم کرنے کا خیال شکست کھا گیا۔اس کے بعد پھر 1914ء میں علماء کی ایک جماعت نے اسی خیال سے یعنی مسلم راج قائم کرنے کے خیال سے تحریک شروع کی اور اس میں بھی شکست کھائی۔اس کے بعد 1920ء میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیو بند مالٹا سے رہا ہو کر تشریف لائے۔دہلی میں