احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 387
387 حصہ دوم احمدیہ علیمی پاکٹ بک اس تحریر سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے نزدیک جہاد بالسیف منسوخ نہیں بلکہ ملتوی ہوا ہے اور اگر آئندہ کبھی اس کی شرائط پیدا ہو جائیں تو یہ بھی فرض ہو جائے گا۔جس جہاد کو بصورت اعلائے کلمہ، اسلام آپ فرض سمجھتے تھے۔اس کا آپ نے پورا حق ادا کر دیا ہے۔یہاں تک کہ آپ نے ملکہ معظمہ کو جس کی آپ رعایا تھے۔مندرجہ ذیل الفاظ میں دعوت اسلام دی:۔اے ملکہ توبہ کر اور اس ایک خدا کی اطاعت میں آجا۔جس کا نہ کوئی بیٹا ہے نہ شریک۔اور اس کی تمجید کر۔کیا تو اس کے سوا اور کوئی معبود پکڑتی ہے جو کچھ پیدا نہیں کر سکے بلکہ خود مخلوق ہیں۔اے زمین کی ملکہ اسلام کو قبول کر۔تا تو بچ جائے۔آمسلمان ہو جا۔( ترجمه آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 532 تا 534) جہاد کو منسوخ کرنے کا الزام درست نہیں۔جس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وقتی طور پر جہاد بالسیف کو حرام قرار دیا۔اس وقت ساری مسلمان رعایا۔الا ماشاء اللہ انگریزوں کی خیر خواہ تھی اور ان کی شکر گزار بالخصوص پنجاب کے رہنے والے۔کیونکہ انگریزوں نے پنجاب کو فتح کر کے مسلمانوں کو جلتے ہوئے تنور سے نجات دی تھی جو سکھوں کی حکومت نے ان کے لئے بھڑ کا رکھا تھا۔سکھوں نے مسلمانوں کو سیاسی غلام بنا رکھا تھا۔ان کی ثقافت اور تمدن کو تباہ کر دیا تھا۔مسلمان جاگیرداروں کی جاگیریں چھین لیں۔جو مسلمان صنعت و حرفت اور تجارت پر قابض ہونے کی وجہ سے خوش حال تھے انہیں اقتصادی طور پر تباہ کیا۔خود حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے خاندان کی جائیداد بھی چھین لی۔مسلمانوں کی مذہبی آزادی بھی چھین لی۔کسی مسلمان کو اذان دینے کی اجازت نہ تھی۔مساجد سکھوں کے اصطبلوں