احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 386
ندی تعلیمی پاکٹ بک 386 حصہ دوم کہ جہاد بالسیف کی وجوہ اس زمانہ میں اور اس ملک میں پائی نہیں جاتیں“ جس نظم میں آپ نے فرمایا:۔اب چھوڑ دو اے دوستو جہاد کا خیال دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال اسی نظم میں آپ فرماتے ہیں:۔فرما چکے ہیں سید کونین مصطفیٰ عیسی مسیح جنگوں کا کر دے گا التواء اس سے ظاہر ہے کہ جہاد بالسیف کو آپ نے علی الاطلاق حرام نہیں کہا بلکہ اپنے زمانہ اور ملک میں اس کی شرائط نہ پایا جانے کی وجہ سے اسے صرف ملتوی قرار دیا ہے۔اور یہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کے مطابق ہے جو مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق يَضَعُ الحَرب کے الفاظ میں ہے۔یعنی کہ وہ جنگ کو روک دے گا۔(صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب نزول عیسی مطبوعہ میرٹھ نیز مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی) اس زمانہ کا جہاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور اس زمانہ کا جہاد یہی ہے کہ اعلائے کلمہ اسلام میں کوشش کریں۔مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں۔دینِ اسلام کی خوبیاں دُنیا میں پھیلا دیں۔آنحضرت کی سچائی دنیا پر ظاہر کریں۔یہی جہاد ہے جب تک کہ خدا کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کر دئے۔( مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ السلام بنام میر ناصر نواب صاحب، مندرجہ رسالہ درود شریف مؤلفہ مولانامحمد اسماعیل صاحب فاضل صفحه 113)