احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 385
385 حصہ دوم احمدیہ علیمی پاکٹ بک اور اس کی عنایات شاہان اور انصاف خسروانہ کو اپنی دلی ارادت اور قلبی عقیدت کا کفیل سمجھتے ہوئے اپنے بادشاہ عالم پناہ کی پیشانی کے ایک قطرے کی بجائے اپنے جسم کا خون بہانے کے لئے تیار ہیں۔اور یہی حالت ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی ہے۔( زمیندار 9 نومبر 1911 ء) پس حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے دعوئی سے پہلے بھی اور دعوئی کے بعد بھی علماء ہند کا جن میں حنفی ، اہلحدیث اور شیعہ شامل ہیں۔یہی فتویٰ تھا کہ انگریزوں سے جہاد کرنا حرام ہے۔اور مفتیانِ مکہ معظمہ بھی ہندوستان کو اس زمانہ میں دار الاسلام قرار دے رہے تھے۔تو انگریزوں کو کیا ضرورت پڑ گئی تھی کہ وہ حضرت مرزا صاحب سے مسیح موعود اور مہدی معہود کا دعوی کراتے اور ان سے یہ فتویٰ دلاتے کہ انگریزوں سے جہاد حرام ہے۔انگریزوں سے جہاد کو تو سب علماء اسلام حرام قرار دے چکے ہوئے تھے۔اس لئے انگریزوں کو ایسے آدمی کو کھڑا کرنے کی کیا ضرورت تھی جو مسیح موعود ہونے کا دعوی کر کے تثلیث کے ستون کو پاش پاش کرنے کی کوشش کرتا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اگر انگریزوں کی عقل و دانش اور نظام حکومت کی تعریف کی ہے تو عین اُس اسلامی تعلیم کے مطابق ہے جس پر علمائے ہند کی مذکورہ تحریرات شاہد ناطق ہیں۔پس حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنے دعوی کے بعد جو یہ فتویٰ دیا کہ انگریزوں سے جہاد حرام ہے تو یہ فتویٰ عین شریعت غزاء کے مطابق تھا۔چنانچہ آپ تحفہ گولڑویہ میں تحریر فرماتے ہیں:۔"إِنَّ وَجُوهَ الْجِهَادِ مَعْدُومَةٌ فِى هَذَا الزَّمَن وَهَذِهِ الْبَلَادِ“ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 82)