احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 336
یتعلیمی پاکٹ بک 336 حصہ دوم تشریعی اور مستقلہ نبوت کے ادعا کا الزام مولوی ابوالحسن صاحب ندوی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ الزام دیا ہے کہ:۔”مرزا صاحب کی تصنیفات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے نبی مستقل صاحب شریعت ہونے کے بھی قائل تھے۔انہوں نے اربعین میں تشریعی یا صاحب شریعت نبی کی تعریف کی ہے کہ جس کی وحی میں امر و نہی ہو۔اور وہ کوئی قانون مقرر کرے۔اگر چہ یہ امر و نہی کسی نبی سابق کی کتاب میں پہلے آچکے ہوں۔اُن کے نزدیک صاحب شریعت نبی کے لئے اس کی شرط نہیں کہ وہ بالکل جدید احکام لائے۔پھر وہ صاف صاف دعوی کرتے ہیں کہ وہ اس تعریف کے مطابق صاحب شریعت اور مستقل نبی ہیں“۔( قادیانیت صفحه 95،94 باراول مکتبہ دینیات لاہور ) الجواب: - مولوی ابوالحسن صاحب کا یہ الزام درست نہیں۔ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی تحریر میں یہ دعوئی موجود نہیں کہ وہ مستقل نبی ہیں۔آپ کا دعویٰ صرف یہ ہے کہ آپ ایک پہلو سے اُمتی ہیں اور ایک پہلو سے نبی ہیں۔اور یہ مقام آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضئہ روحانی سے حاصل کیا ہے۔اربعین کا جو حوالہ مولوی ابوالحسن صاحب نے پیش کیا ہے۔اس میں ہرگز ایسے الفاظ موجود نہیں کہ آپ مستقل نبی ہیں یا صاحب شریعت جدیدہ نبی ہیں۔اربعین سے ایک سال بعد کی تصنیف اشتہار ایک غلطی کا ازالہ میں فرماتے ہیں:۔و جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان