احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 335
احمدی تعلیمی پاکٹ بک 335 حصہ دوم اس جگہ منفی قرار دے کر جو کام آپ نے کیا اس کی اپنی طرف نسبت دی ہے۔اس لئے کہ آپ فنافی اللہ کے اتم درجہ پر پہنچے ہوئے تھے۔اور سر سے پاؤں تک اللہ تعالیٰ آپ میں مخفی تھا۔اسی قسم کی کیفیت بعض اوقات خدا کے برگزیدہ پر طاری ہو جاتی ہے۔اور وہ یہ کہ اُٹھتا ہے:۔سر سے لے کر پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں اے مرے بدخواہ کرنا ہوش کر کے مجھ پہ وار جنگ بدر میں اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل ایک الہی فعل تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی نصرت اس طرح شامل حال ہوئی کہ کنکروں کی مٹھی ایک تیز آندھی میں مبدل ہو گئی جس کا رُخ دشمنانِ اسلام کی طرف تھا اور اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے تیر نہایت تیزی سے کافروں کونشانہ بنارہے تھے اور کافروں کا کوئی تیر مسلمانوں تک پہنچ نہیں سکتا تھا۔لہذا اس معجزانہ الہی قوت نے جنگ بدر میں ایسا نشان دکھایا کہ دشمن اسلام مسلمانوں سے تین گنا زیادہ جمعیت اور ساز و سامان رکھنے کے باوجود ذلت آمیز شکست کھا گیا۔اولیاء پر کبھی کبھی ایسی حالت طاری ہوتی ہے اور وہ کہہ اُٹھتے ہیں۔جیسا کہ سید عبدالقادر جیلانی پیر پیران نے کہا۔لَیسَ فِی - سِوَى اللَّهِ 66 ( مکتوب امام ربانی مجددالف ثانی دفتر اول حصہ پنجم مکتوب نمبر 272 رؤف اکیڈیمی لاہور ) ترجمہ:۔کہ میرے پیرا ہن میں اللہ کے سوا اور کچھ نہیں“۔اسی فنافی اللہ کی حالت میں دراصل اولیاء اللہ سے ایسی کرامات صادر ہوتی ہیں جن میں الہی تصرف نظر آتا ہے۔